پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا اجلاس ٗ ادارے میں ملازمت کے قوانین پر نظر ثانی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:18:48 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 19:01:03 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:51:41 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:40:10 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:27:33 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:18:54 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:10:33 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 18:06:57 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:41:15 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:34:51 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:34:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا اجلاس ٗ ادارے میں ملازمت کے قوانین پر نظر ثانی اور بہتر بنانے کا فیصلہ

پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کروایا جا رہا ہے ٗ پیر امین الحسنات , بورڈ سے الحاق کرنے والے مدارس کی تکنیکی اور مالی معاونت کی جائیگی ٗمیڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء)پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا اجلاس وزارتِ مذہبی امورو بین المذاہب ہم آہنگی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا ۔ اجلاس میں وفاقی وزیر سردار محمد یوسف، وزیر مملکت پیر محمد امین الحسنات شاہ، سیکرٹری مذہبی امور سہیل عامر، چیئرمین مدرسہ بورڈ ڈاکٹر عامر طہ سین سمیت بورڈ اراکین اور وزارت کے دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔

اجلاس میں مدرسہ ایجوکیش بورڈ کی تنظیم نو سمیت کئی اہم فیصلے کئے گئے ۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا قیام سن 2001کو ایک آرڈیننس کے تحت عمل میں لایا تھا ۔ قوائد و ضوابط کے مطابق اس ادارے کا اجلاس ہر چھ ماہ بعد منعقد ہونا ضروری ہے تاہم آج کا یہ اجلاس تقریباً ایک سال بعد منعقد ہو ا ہے ۔ اجلاس کے آخر میں وزیرِ مملکت مذہبی امور پیر محمد امین الحسنات شاہ نے پریس کانفرنس کے ذریعے میڈیا کو بورڈ کے فیصلوں سے آگاہ کیا۔

بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ فی الحال اس ادارے کو وفاقی حکومت کے تحت ہی چلایا جائے گا۔ صوبائی حکومتوں سے بھی رابطے میں ہیں اگر انھوں نے اس ادارے کو لینے میں دلچسپی ظاہر کی تو اٹھارویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کر دیا جائے گا۔ بورڈ نے ادارے میں ملازمت کے قوانین پر نظر ثانی اور بہتر بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ملازمین کے مسائل حل ہو سکیں۔

تقریباً 650مدارس نے بورڈ سے الحاق کیلئے رابطہ کیا ہے ان کے الحاق کا فیصلہ مدارس کی مکمل چھان بین کے بعد کیا جا رہا ہے ۔ الحاق کرنے والے مدارس کو کمپیوٹرز، نصاب، اساتذہ اور دیگر سہولیات کی مد میں تعاون کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا اس ادارے کو گیارہ سال بعد فعال کر رہے ہیں ۔امید ہے کہ ادارہ اپنے قیام کے اغراض و مقاصد کو جلد از جلد حاصل کرلے گا۔

ادارے کے حوالے سے جو خامیاں سامنے آ رہی ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بورڈ نے فیصلہ کیا ہے کہ 2010سے 2016تک تمام سالوں میں کئے جانے والے اخراجات کا آڈیٹر جنرل سے منظم آڈٹ کروایا جائیگا اور اس کے بعد ملازمین کی تقرری کا فیصلہ کیا جائے گا۔ پیر امین الحسنات شاہ نے ادارے کے چیئرمین ڈاکٹر عامر طہ سین کی ادارے کی بہتری کیلئے کی جانے والی کوششوں کو سراہا ۔ اس سے پہلے ڈاکٹر عامر طہ سین،چیئر مین پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے ادارے کے حوالے سے بورڈ ممبران اور اجلاس کے دیگر اراکین کو ادارے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی ۔

17/03/2016 - 18:18:54 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان