مصطفیٰ کمال کا معاملہ 18ویں ترمیم جیسا ہے، مصطفی ٰکمال کی آمد کے عمل کا مشاہدہ کررہا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:32:04 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:09:12 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:09:12 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 17:09:11 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:55:17 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:53:37 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:53:37 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:53:36 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:53:36 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:50:52 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 16:50:52
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

مصطفیٰ کمال کا معاملہ 18ویں ترمیم جیسا ہے، مصطفی ٰکمال کی آمد کے عمل کا مشاہدہ کررہا ہوں،لیاری ایکسپریس وے بہت اہم منصوبہ ہے،لیاری ایکسپریس وے کے 2008 ء سے رکے ٹریک پر کام کا آغاز بڑی خو شخبری ہے،گورنر سندھ عشرت العباد کی صحافیوں سے گفتگو

,

کراچی (اْردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 17مارچ 2016ء) گورنرسندھ عشرت العباد نے کہا ہے کہ مصطفیٰ کمال کا معاملہ 18ویں ترمیم جیسا ہے، سیاسی جماعتوں میں ایسی صورتحال میں ایساکوئی میکنزم نہیں،میں اسکو18ویں ترمیم سےجوڑتاہوں،ایکسپریس وے بہت اہم منصوبہ ہے. وہ لیاری ایکسپریس وے کے دوسرے ٹریک کے تعمیراتی کام کے آغاز کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکر رہے تھے،اس موقع پر صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ میر ممتاز جکھرانی ، صوبائی وزیر بلدیات جام خان شورو ، ایڈمنسٹریٹر کراچی روشن علی شیخ ، کمشنر کراچی آصف حیدر شاہ اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے افسران بھی موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے لیاری ایکسپریس وےمکمل ہونے کے بعد ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی. ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے. لیاری ایکسپریس وےکی تکمیل کےلیےلوگوں کو نقل مکانی کرنی پڑی. لیاری ایکسپریس وے کے ڈیزائن میں کچھ مسائل تھے. گورنر سندھ نے کہا کہ اسپتال ٹھیک کرانے گیا تو پوچھا گیا کہ کوئی داخل ہونے والا ہے، پارکس ٹھیک کرانے گیا تو کہا گیا کہ کوئی گھومنے آنے والا ہے۔

گورنر سندھ عشرت العباد نے صحافی کے سوال "مصطفیٰ کمال کے پیچھے گورنر صاحب آپ ہیں؟ " کے جواب میں لب کھولتے ہوئے کہا کہ اگر میں ہوتا تو مصطفی کمال سے آگے ہوتا پیچھے تھوڑی ہوتا،انہوں نے کہا کہ میرے حساب سے یہ 18 ویں ترمیم سے ملتا جلتا کچھ کام ہوا ہے تاہم مصطفی ٰ کمال کی آمد کے عمل کا جائزہ اور مشاہدہ کررہا ہوں،18ویں ترمیم کی روح یہ ہےکہ اختیارات کی تقسیم اورعدم مرکزیت کا خاتمہ ہو ،ضرورت سےزیادہ مرکزیت پرسیاسی جماعتیں بیٹھیں اور صوبوں کوحقوق دینےکیلیےآئین میں ترمیم کی، انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں میں ایسی صورتحال میں ایساکوئی میکنزم نہیں،میں اسکو18ویں ترمیم سےجوڑتاہوں۔

انہوں نے کہا ہے کہ لیاری ایکسپریس وے کے 2008 ء سے رکے ہوئے ٹریک پر کام کا آغاز کراچی کے شہریوں کیلئے ایک بڑی خو شخبری ہے کیونکہ اس کے دوسرے ٹریک کی تکمیل سے شہر یوں کو مزید بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی یہ کراچی کے شہریوں کا دیرینہ خواب تھا جس کی تکمیل کیلئے کام کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔ گورنر سندھ نے کہا کہ لیاری ایکسپریس وے کی تعمیر میں مختلف وجوہات کی وجہ سے تاخیر ہوتی رہی جن میں اس کے رائٹ آف وے کے حصول کے ساتھ ساتھ فنڈز کی عدم دستیابی بھی شامل تھی جس کے باعث ایک بہترین منصوبہ اتنے عرصہ تک التواء کا شکار رہا ۔

انہوں نے کہا کہ اب جبکہ اس کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں دور کرلی گئیں ہیں رائٹ آف وے کے حصول کے ساتھ ساتھ ایکسپریس وے پر واقع مکانات کے معاوضہ کا مسئلہ بھی حل کرلیا گیا ہے جس کے بعد آج سے اس پر تعمیراتی کام کا آغاز کیا جا رہا ہے جسے 18 ماہ میں مکمل کرلیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ باقی رہ جانے والے 5.3 کلومیٹر پر تعمیراتی کام کی تکمیل سے ماری پور روڈ سے سہراب گوٹھ تک بھی مسافر اس منصوبے سے فائدہ اٹھاسکیں ۔

انہوں نے کہا کہ ایکسپریس وے ٹریفک جام سمیت دیگر مسائل کے خاتمے کا بہترین ذریعہ ہے جس سے فاصلہ کم ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف شاہراہوں کے ساتھ رابطہ اور وقت کی بچت بھی ممکن ہو گی ۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کی صورتحال میں بہتری کے بعد مجموعی ترقیاتی عمل کو تیز کیا جارہا ہے تاکہ شہریوں کو ہر شعبہ میں بنیادی سہولیات کے فراہمی کو ممکن بنایا جاسکے ۔

انہوں نے کہا کہ بھرپور توجہ نہ دیئے جانے کے باعث بنیادی سہولیات کا ڈھانچہ بری طرح متا ثر ہوا ہے جس کی بحالی کے لئے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابتدائی سروے میں15 ہزار مکانات شامل تھے جو کہ بعد میں مختلف دعوؤں کے باعث بڑھ گئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ری سیٹلمنٹ میں کرپشن کی اطلاعات پر کارروائی کی جارہی ہے اور بد عنوانی میں ملوث پائے گئے افسران کو کسی بھی صورت میں معاف نہیں کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا اس ایکسپریس وے کی راہ میں مساجد ، امام بار گاہ ، چرچ اور قبرستان بھی تھے جنھیں متبادل جگہ منتقل کرنے میں وقت لگا اور عدالتی معاملات کے باعث بھی تاخیر ہوئی۔ اس موقع پر گورنر سندھ کو بتا یا گیا کہ 1.1 کلومیٹر کے رائٹ آف وے کا مسئلہ بھی جلد از جلد حل کرلیا جائے گا کیونکہ عدالت کی جانب سے اس ضمن میں اسٹے آرڈر کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے ۔گورنر سندھ کو مزید بتایا کہ منصوبے کے آغاز کے لئے 45 ملین کے فنڈز ریلیز ہو چکے ہیں جبکہ باقی بھی جلد ریلیز کردیئے جائیں گے ۔ گورنر سندھ نے ایڈمنسٹریٹر کراچی روشن علی شیخ کو اس مسئلہ کو جلد از جلد حل کرنے کی ہدایت کی ۔

17/03/2016 - 16:53:37 :وقت اشاعت