امریکی حکومت نے شمالی کوریا سے ورجینیا یونیورسٹی کے طالب علم کو رہا کرنے کی اپیل ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 17/03/2016 - 12:52:45 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 12:01:27 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 12:01:27 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:54:15 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:54:15 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:41:40 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:38:10 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:38:10 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:38:10 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:35:48 وقت اشاعت: 17/03/2016 - 11:35:48
پچھلی خبریں - مزید خبریں

امریکی حکومت نے شمالی کوریا سے ورجینیا یونیورسٹی کے طالب علم کو رہا کرنے کی اپیل کردی

واشنگٹن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔17 مارچ۔2016ء )امریکی حکومت نے شمالی کوریا سے اس امریکی طالبِ علم کو رہا کرنے کی اپیل کی ہے جسے پیانگ یانگ حکام نے ریاست کے خلاف جرم کا ارتکاب کرنے پر 15 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق وہائٹ ہاؤس کے ترجمان جوش ارنسٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیرونِ ملک موجود امریکی باشندوں کا تحفظ اور بہبود اوباما انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

بیان میں وہائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ واضح ہوتا جارہا ہے کہ پیانگ یانگ حکومت امریکی شہریوں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ترجمان نے شمالی کوریا کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ 21 سالہ امریکی طالبِ علم اوٹو وارم بیئر کو رہا کرے جسے شمالی کورین حکام نے ہوٹل سے ایک بینر اتارنے کے جرم میں سزا سنائی ہے۔

وارم بیئر امریکہ کی ورجینیا یونیورسٹی کا طالب علم ہے جو رواں سال جنوری میں سیاحوں کے ایک گروپ کے ہمراہ گھومنے پھرنے شمالی کوریا گیا لیکن وطن واپسی سے عین قبل کورین حکام نے اسے گرفتار کرلیا تھا۔شمالی کورین حکام نے گزشتہ ماہ وارم بیئر کو غیر ملکی اور مقامی صحافیوں کے سامنے پیش کیا تھا جس کے دوران گرفتار طالبِ علم نے اعتراف کیا تھا کہ اس نے اپنے ہوٹل میں لگے ہوئے سیاسی تحریر والے ایک بینر کو بغیر اجازت اتارا تھا۔

وارم بیئر نے بتایا تھا کہ بینر ہوٹل کے اس حصے میں لگا ہوا تھا جہاں صرف عملے کے ارکان کو جانے کی اجازت تھی۔امریکی طالبِ علم نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اس کے ایک دوست کی والدہ نے اسے بینر کے بدلے 10 ہزار ڈالر مالیت کی استعمال شدہ کار دینے کی پیش کش کی تھی جس پر وہ لالچ کا شکار ہوگیا تھا۔وارم بیئر کا کہنا ہے کہ اس کے دوست کی والدہ شمالی کوریا کے اس بینر کو ایک یادگار کے طور پر اپنے گرجا گھر میں آویزاں کرنے کی خواہش مند تھیں۔

مذکورہ خاتون نے وارم بیئر کو یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر وہ شمالی کوریا میں گرفتار ہوگیا تو وہ اس کی والدہ کو دو لاکھ ڈالر زرِ تلافی ادا کریں گی۔شمالی کوریا کی حکومت اکثر و بیشتر سیاحت کی غرض سے آنے والے امریکیوں کو حراست میں لے لیتی ہے جن پر اسی نوعیت کے معمولی جرائم کے الزامات ریاست کے خلاف بغاوت اور جاسوسی قرار دے کر عائد کیے جاتے ہیں۔

17/03/2016 - 11:41:40 :وقت اشاعت