جی ایس پی پلس کا متوقع فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، توانائی کا بحران اور امن و اما ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:55:49 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:51:26 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:51:26 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:51:26 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:42:55 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:36:48 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:35:42 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:35:42 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:35:42 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:33:49 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 21:33:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کراچی

جی ایس پی پلس کا متوقع فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا، توانائی کا بحران اور امن و اما ن کی صورتحال پر قابو اور ماحولیات کو بہتر کرنے سے ہی پیداوار میں اضافہ اور لاگت میں کمی آئے گی اور ایکسپورٹ میں اضافہ ہو گا۔ عبدالروٴف عالم

کراچی ۔ 16 مارچ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدر عبدالروٴف عالم نے جی ایس پی پلس سے پورا فائدہ اٹھانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری 2014ء میں پاکستان کو ملنے والے جی ایس پی پلس والے درجے سے یورپین ممالک کو پاکستان کی برآمدات سالانہ 2 بلین ڈالر تک اضافے کی توقع تھی اور اس وقت یورپین ممالک کا رویہ بھی حوصلہ افزاء تھا۔

انہوں نے کہا کہ 2014-15ء میں یورپی ممالک کو پاکستان کی برآمدات 6.84 بلین ڈالر رہی جو کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے سے قبل 2012-13ء میں 5.67 بلین ڈالر تھی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ تجارتی اعدادو شمار کے مطابق جی ایس پی پلس کا متوقع اور بھرپور فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا جس کی اصل وجہ ملک کے اندرونی مسائل بشمول توانائی کا بحران اور امن و امان کی صورتحال ہے جن کی وجہ سے مقامی صنعت کار ملکی برآمدات میں اضافے کے لئے مناسب قیمت پر اشیاء کی پیداوار نہیں فراہم کر سکے۔

رؤف عالم نے اس بات پر زور دیا کہ یورپین یونین کی طرف سے اگلی مدت کے لئے جی ایس پی پلس کے درجے کی دوبارہ توثیق سے پہلے ہمیں خود کو تیار کرنا ہو گا اور برآمدات کے لئے مسابقتی اہلیت اور قابلیت کو ثابت کرنا ہوگا۔ انہوں نے دو اہم نقاط

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/03/2016 - 21:36:48 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان