سپریم کورٹ ، پرویز مشرف کا نام برقرار رکھنے اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:48:36 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:48:36 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:44:31 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:33:08 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:33:08 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:30:59 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:30:59 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:09:07 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 16:55:25 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 16:50:42 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 16:50:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

سپریم کورٹ ، پرویز مشرف کا نام برقرار رکھنے اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کیخلاف دائر حکومتی اپیل مسترد

حکومت مشرف کے بیرون ملک روانگی کے معاملے پر خود کچھ نہیں کرنا چاہتی،یہ معاملہ عدالت پر ڈالنا چاہتی ہے ، بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو حکومت قانونی حکم جاری کرے ،چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے دوران کیس ریمارکس

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء) سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کی جانب سے سابق صدر پرویز مشرف کا نام برقرار رکھنے اور سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر اپیل مسترد کر دی ہے اور سابق صدر کے حوالے سے سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ بحال کرتے ہوئے انہیں علاج معالجے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی جبکہ پانچ رکنی لارجر بنچ کے سربراہ چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ حکومت پرویز مشرف کے بیرون ملک روانگی کے معاملے پر خود کچھ نہیں کرنا چاہتی بلکہ یہ معاملہ عدالت پر ڈالنا چاہتی ہے پرویز مشرف کو بیرون ملک جانے کی اجازت نہیں دیتی تو حکومت قانونی حکم جاری کرے ۔

انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کے روز دیئے ہیں عدالت نے اپنے مختصر فیصلے میں کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا جاتا ہے حکومت اور خصوصی عدالت پرویز مشرف کو حراست میں رکھنا ہے یا نہیں بارے فیصلہ کرنے میں بااختیار ہیں عدالتی فیصلہ ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنے گا ۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل پاکستان سلمان بٹ نے کہاکہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل رولز 2010 کے تحت ڈالا گیا حکومت عدالتی حکم کو حتمی سمجھتی ہے موجودہ صورت حال میں عدالت جو بھی حکم جاری کرے گی اس پر عمل کیا جائے گا اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ واضح بات کیوں نہیں کرتے سارا ملبہ آپ عدالت پر کیوں ڈالتنا چاہتے ہیں آپ نے ان کو اجازت دینی ہے یا نہیں واضح قانونی حکم جاری کیوں نہیں کرتے ۔

آٹھ اپریل 2013 کے سپریم کورٹ کے عبوری حکم میں تو پرویز مشرف کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر تین جولائی 2013 کے حتمی حکم میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

16/03/2016 - 17:30:59 :وقت اشاعت