شہری بازیابی کیس،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو تحریری بیان دینے کا حکم دیدیا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:49:39 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:46:30 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:46:00 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:46:00 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:33:08 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:30:59 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:27:49 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:09:07 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 17:04:19 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 16:55:25 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 16:48:41
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

شہری بازیابی کیس،اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو تحریری بیان دینے کا حکم دیدیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت سے لاپتہ ہونے والے دو شہریوں کی بازیابی کیلئے دائر کیس میں پولیس کو تحریری بیان دینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت اٹھارہ اپریل تک ملتوی کردی ۔ گزشتہ روز جسٹس نور الحق قریشی نے لاپتہ شہری سعد خان جدون اور سیف اللہ سیفی کی بازیابی کیلئے دائر کیس کی سماعت کی درخواست گزار کی جانب سے ایڈووکیٹ عمر حیات سندھو جبکہ وفاق کی جانب سے ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود اور ایس ایچ او تھانہ کراچی کمپنی مبارک علی عدالت میں پیش ہوئے ایس ایچ او مبارک علی نے عدالت کو بتایا کہ وقوعہ کے وقت سی سی ٹی وی کیمرے خراب ہونے کی وجہ سے کام نہیں کررہے تھے اس لئے اس حوالے سے کوئی ریکارڈ نہیں مل سکا اس پر عدالت نے حکم دیا کہ ایس ایچ او تحریری بیان عدالت میں جمع کروائے عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام شہریوں کی حفاظت کرے اس موقع پر ڈپٹی اٹارنی جنرل راجہ خالد محمود نے کہا کہ وزارت دفاع کو جواب دینے کیلئے آٹھ ماہ کی مہلت چاہیے اس پر عدالت نے سخت برہمی کا اظہار کیا عدالت نے کہا کہ کوئی بھی ادارہ آئین و قانون سے بالاتر نہیں ہے بعد ازاں عدالت نے آئندہ سماعت اٹھارہ اپریل تک ملتوی کردی

16/03/2016 - 17:30:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان