24 سے زیادہ ٹینس کھلاڑیوں کو سٹہ بازوں سے تعلقات باعث شامل تفتیش کرنا چاہیے،اطالوی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید کھیلوں کی خبریں

وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:57:40 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:45:59 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:45:56 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:22:49 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:12:14 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:12:09 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:12:06 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:11:01 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:10:58 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:09:53 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 13:09:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

24 سے زیادہ ٹینس کھلاڑیوں کو سٹہ بازوں سے تعلقات باعث شامل تفتیش کرنا چاہیے،اطالوی پراسکیوٹر

روم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء)ایک اطالوی پراسیکیوٹر نے کہا ہے کہ ٹینس کے دو درجن سے زیادہ کھلاڑیوں کو سٹہ بازوں سے تعلقات ہونے کی وجہ سے شامل تفتیش کرنا چاہیے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق رابرٹو ڈی مارٹینو کے مطابق ان کھلاڑیوں کے نام میچ فکسنگ میں ملوث مشکوک سٹہ بازوں کے پاس سے حاصل کردہ شواہد میں موجود ہیں ‘ان میں وہ دو کھلاڑی بھی شامل ہیں جن کا شمار دنیا میں ٹینس کے 20 بہترین کھلاڑیوں میں ہوتا ہے۔

ابھی تک دو اطالوی کھلاڑی پوٹیٹو سٹاراس اور ڈینیئل براسیالی پر تفتیش کے بعد مقدمہ دائر کیا جا چکا ہے تاہم ڈی مارٹینو کا کہنا ہے کہ فہرست میں شامل دیگر کھلاڑیوں کی تفتیش بھی ہونی چاہیے۔انھوں نے بتایا کہ ٹینس حکام کو ان کے حاصل کردہ شواہد پر مزید کارروائی کرنی چاہیے۔ڈی مارٹینو کے مطابق یقینا اگر یہ تمام کھلاڑی اطالوی ہوتے تو کم از کم ان سے سوال ضرور کیا جاتا ‘ان کو اپنے اس عمل کی وضاحت دینی چاہیے۔

ڈی مارٹینو کے مطابق سٹہ بازوں نے دو درجن سے زیادہ غیر اطالوی کھلاڑیوں کے نام بھی لیے ہیں اور ان کو یقین ہے کہ ان تمام کھلاڑیوں کی ٹینس انٹیگریٹی یونٹ (ٹی آئی یو) کی جانب سے تفتیش کی جائیگی انھوں نے شواہد میں موجود کھلاڑیوں کی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کھلاڑی کوئی دوسرے درجے کے کھلاڑی نہیں ر نہیں ہیں بلکہ ان میں کئی کھیل میں کافی اہمیت رکھتے ہیں ‘سٹاراس اور براسیالی پر 2007 اور 2011 کے درمیان 50 ہزار یورو تک کی رقم کے عوض میچ فکسنگ کرنے کا الزام لگایا گیا ۔

توقع ہے دونوں کھلاڑیوں کو مئی میں عدالت میں پیش کر دیا جائیگا تاہم دونوں نے کسی بھی قسم کے سپورٹس فراڈ میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ڈی مارٹینو کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ سٹاراس نے بارسلونا میں 2009 اور 2011 میں دو الگ الگ میچوں میں فکسنگ کی تھی۔تفتیش میں شامل قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ دو کھلاڑیوں کا نام انٹرینٹ پر دو سٹہ بازوں اور ان کے سودے بازوں کے درمیان بات چیت کے ریکارڈ سے نکالا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ ممکن ہے کہ یہ دونوں کھلاڑی سٹہ بازوں کے کنٹرول میں ہوں ‘یہ بات چیت پراسیکیوٹر کی جانب سے تین ماہ قبل ٹی آئی یو کو بھیجی جانے والی سینکڑوں فائلوں میں شامل ہے۔ڈی مارٹینو کے مطابق ٹی آئی یو کے تفتیش کار میرے پاس آئے اور واضح طور پر کہا کہ ان کوصرف اطالوی کھلاڑیوں کی تفتیش میں دلچسپی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چند اطالوی کھلاڑیوں کی تفتیش سے زیادہ ٹینس کی بین الاقوامی ساکھ کوسنبھالنے کی ضرورت ہے۔

اس جرم میں شامل غیر اطالوی کھلاڑیوں کی شناخت اور پکڑ بھی ممکن ہے۔ڈی مارٹینو نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ٹینس میچوں کے مشکوک ہونے کی سینکڑوں بار نشاندہی کرنیکے باجود ٹی آئی یو نے ان کو نظر انداز کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس گھناوٴنے کام کو روکنے کے لیے ٹی آئی یو نے اب تک کوئی ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کیے۔

16/03/2016 - 13:12:09 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان