پشاور، سیکریٹریٹ ملازمین کی بس میں دھماکہ ، 15 افراد جاں بحق،خواتین و بچوں سمیت ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:36:34 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:36:01 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:36:01 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:34:09 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:34:09 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:34:09 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:02:23 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:02:23 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:02:23 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:21:50 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:16:31
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

پشاور، سیکریٹریٹ ملازمین کی بس میں دھماکہ ، 15 افراد جاں بحق،خواتین و بچوں سمیت 25سے زائد زخمی

پشاور/اسلام آباد /مردان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔16 مارچ۔2016ء ) پشاور میں سنہری مسجد روڈ کے قریب پشاور سیکریٹریٹ کے ملازمین کی بس میں دھماکے سے 15 افراد جاں بحق اور خواتین و بچوں سمیت 25سے زائد زخمی ہوگئے،زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہرکیا جارہاہے ، پشاور کے ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔

بدھ کو پولیس کے مطابق دھماکا سنہری روڈ کے قریب پشاور سیکریٹریٹ کی بس میں ہوا جس کی آواز دور دور تک سنی گئی اور قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے۔ ایس پی کینٹ پشاور کاشف ذوالفقار نے دھماکے میں 15 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ بس معمول کے مطابق اپنے مقرر وقت پر مردان سے سرکاری ملازمین کو لے کر پشاور آرہی تھی جبکہ دھماکا خیز مواد بس کے اندر سیٹ کے نیچے نصب تھا۔

ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت کے کہا کہ بس میں 40 سے زائد افراد سوار تھے اور بظاہر دھماکا پلانٹڈ ڈیوائس کے ذریعے کیا گیا۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق بس میں 8 کلو گرام بارودی مواد ٹائم ڈیوائس کے ساتھ سی این جی کے چار سلنڈرز کے قریب نصب کیا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری جائے وقوع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کئے۔

زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اور دیگر ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا جہاں چند زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ صورتحال کے پیش نظر پشاور کے لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ۔ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ 27 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ متعدد افراد کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جب کہ ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ۔

دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد میں سے زیادہ تر کا تعلق مردان سے تھا جب کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے متعدد افراد کو ریسکیو حکام نے کاٹ کر باہر نکالا۔صدر ممنون حسین، وزیراعظم نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین عمران خان ،سابق صدر آصف علی زرداری ،پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ،جمیعت علما اسلام کے امیر مولانافضل الرحمان ،امیر جماعت اسلامی سنیٹر سرالج الحق ،وزیر اعلی خیبر پختونخواپرویز خٹک سمیت دیگر نے پشاور دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر دلی افسوس کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف نے بم دھماکے کی مذمت اور اس میں قیمتوں جانوں کی ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بزدلانہ حملے دہشت گردی کے خلاف قوم کے عزم کو متزلزل نہیں کرسکتے، جبکہ حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ معصوم جانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے انسانیت کے دشمن ہیں۔

انہوں نے خیبر پختونخوا حکومت کو زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوٴں نے بھی بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔واضح رہے کہ ستمبر 2013 میں بھی پشاور کے چارسدہ روڈ پر سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق جب کہ 40 سے زخمی ہوئے تھے۔

16/03/2016 - 11:34:09 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان