انقرہ میں خودکش بم دھماکا کرنے والی24 سالہ حملہ آور شاگلہ دیمیر کا تعلق کالعدم ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:34:09 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:02:23 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:02:23 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 11:02:23 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:21:50 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:16:31 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:16:31 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:16:31 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:02:45 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:02:45 وقت اشاعت: 16/03/2016 - 10:02:44
پچھلی خبریں - مزید خبریں

انقرہ میں خودکش بم دھماکا کرنے والی24 سالہ حملہ آور شاگلہ دیمیر کا تعلق کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تھا :ترک وزارت داخلہ

انقرہ(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16مارچ۔2016ء)ترکی کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ انقرہ میں خودکش بم دھماکا کرنے والی24 سالہ حملہ آور شاگلہ دیمیر کا تعلق کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) سے تھا اور اس کو شام میں کرد ملیشیا پیپلز پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) نے تربیت دی تھی۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایک تحریری بیان میں بتایا گیا ہے کہ اس خودکش بمبار عورت نے 2013ءمیں پی کے کے میں شمولیت اختیار کی تھی۔

انقرہ میں بم دھماکے کی تمام پہلوو¿ں سے تحقیقات کی جارہی ہے حملے کے مرکزی کردار کی شناخت عبدالباقی ثمر کے نام سے کی گئی ہے۔اس کا تعلق کردستان فریڈم فالکن (ٹی اے کے) نامی کرد باغی گروپ سے تھا۔وہ شام میں وائی پی جی کی صفوں میں شامل ہوکر لڑتا رہا تھا۔وہ ایک شامی مہاجر صالح نجار کے نام سے ترکی میں داخل ہوا تھا۔ترک پولیس نے مشتبہ افراد کی گرفتاری کے لیے استنبول سمیت مختلف شہروں میں چھاپا مار کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور اس نے50 سے زیادہ مشتبہ کرد باغیوں کو گرفتار کرلیا ہے۔

ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں آزادی کے نام پر سکیورٹی فورسز سے برسر پیکار کالعدم کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ ایک کرد جنگجو گروپ نے اس خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ترکی میں جولائی 2015ءکے بعد خودکش بم دھماکوں میں قریباً دو سو دس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ان حملوں کا کرد باغیوں یا پھر عراق اور شام میں برسرپیکار داعش کے جنگجوو ں پر الزام عائد کیا گیا ہے۔

16/03/2016 - 10:16:31 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان