کاکراپر اٹامک پاور اسٹیشن سے جوہری مواد لیک ہونے کی اطلاعات ‘ بھارت کے جوہری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 22:09:49 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 22:08:26 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 22:08:26 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 22:07:03 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 22:04:18 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:53:47 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:53:10 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:50:35 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:50:35 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:44:34 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:44:34
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کاکراپر اٹامک پاور اسٹیشن سے جوہری مواد لیک ہونے کی اطلاعات ‘ بھارت کے جوہری پروگرام کے محفوظ ہونے کے دعوی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا

نئی دہلی(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15مارچ۔2016ء) ہندوستانی ریاست گجرات میں واقع کاکراپر اٹامک پاور اسٹیشن سے کچھ جوہری مواد لیک ہونے کی اطلاعات نے ایک مرتبہ پھر بھارت کے جوہری پروگرام کے محفوظ ہونے کے دعوی پر سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے۔پلانٹ آپریٹر نیوکلیئر پاور کارپوریشن آف انڈیا کی جانب سے ایک بیان جاری کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اسٹیشن کے یونٹ 1 کو اس وقت بند کرنا پڑا جب ہیٹ ٹرانسپورٹ سسٹم سے لیکج ہوئی۔

آپریٹر نے یقین دہانی کرائی کہ کسی قسم کی ریڈی ایشن کا اخراج نہیں ہوا اور وہاں کام کرنے والے محفوظ ہیں۔اس کے بعد سے پلانٹ سے نیوکلیئر پاور کارپوریشن یا اٹامک انرجی ریگولیٹری بورڈ کی جانب سے کوئی اپ ڈیٹ سامنے نہیں آئی جو کہ انڈیا میں جوہری تحفظ کا نگران ادارہ ہے۔ایک عالمی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ نامکمل معلومات کی وجہ سے کسی قسم کی تصویر بنانا آسان نہیں، ہم جانتے ہیں کہ 11 مارچ کی شپ کو پاور پلانٹ میں ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا، اگرچہ یہ حادثہ یا اس کا آغاز صبح نو بجے ہوا مگر ہمیں اب تک علم نہیں کہ نافذ کی گئی ایمرجنسی کو اٹھالیا گیا ہے یا نہیں اور صورتحال معمول پر آئی یا نہیں۔

تاپی کے ضلعی مجسٹریٹ بی سی پٹنی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں حالانکہ یہ جوہری ری ایکٹر انتظامی طور پر ضلع سورت کا حصہ ہے ، اس کے قریب واقع آبادی ضلع تاپی میں آتی ہے۔مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس آخری اپ ڈیٹ ہفتہ کی شب کی ہے، جوہری اسٹیبلشمنٹ ٹیم نے پانی اور زمین کے نمونے حاصل کرکے ریڈی ایشن ٹیسٹوں کے لیے بھیجے ہیں۔

ہمیں ورکرز کی حالت کے بارے میں بھی کچھ علم نہیں خاص طور پر وہ جو اس روز صبح کی شفٹ میں تھے، ہمیں بس یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ریڈی ایشن کی مقدار بہت زیادہ نہیں تھی۔بین الاقوامی روایات پر عمل کرتے ہوئے نیوکلیئر کارپوریشن کو مقامی شہری انتظامیہ، میڈیا اور

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 21:53:47 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان