تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:50:35 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:44:34 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:44:34 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:42:09 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:42:08 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:42:08 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:41:59 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:41:59 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:39:49 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:35:22 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 21:35:22
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔وزیرقانون پنجاب

لاہور(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔15مارچ۔2016ء)وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ تحفظ خواتین ایکٹ منتخب اسمبلی کا پاس کردہ ہے، اس کی واپسی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ خواتین ایکٹ میں قران و سنت کے منافی کسی چیز میں ترمیم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماءاور مذہبی لیڈر معمول کے عمل کو ٹارگٹ بنانے کی کوشش نہ کریں، بلکہ علماءاور مذہبی لیڈر امت مسلمہ کو درپیش گھمبیر صورتحال کا حل نکالیں۔

وزیر قانون پنجاب کا کہنا تھا کہ مذہبی جماعتوں اور علماءنے ادھر کا رخ کیونکر کر لیا، سمجھ نہیں سکا، لگتا ہے علماء اور قائدین کے پاس اور کوئی کام نہیں جو اسے لیکر بیٹھ گئے ہیں۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ حکومت کو شاباش دینے کے بجائے سے الٹا مغربی ایجنڈا کہہ کر ایشو بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، علماءاور اسلامی جماعتیں خوامخوہ کے مسائل پیدا کر نے کے بجائے ملکی استحکام میں اپنا کردار ادا کریں۔

15/03/2016 - 21:42:08 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان