سعودی عرب کی جیل میں شادی،مہمانوں کی تواضع
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 20:04:57 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 20:03:58 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 20:03:58 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 20:03:58 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 19:56:16 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 19:54:14 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 19:47:15 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 19:44:21 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 19:38:08 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 19:38:08 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 18:52:10
پچھلی خبریں - مزید خبریں

سعودی عرب کی جیل میں شادی،مہمانوں کی تواضع

ولی عہد کا قیدی دلہا کو رقم اور دلہن کو بیش قیمت گھڑی کا تحفہ

الریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء)جیل کا نام سنتے ہی ذہن میں ایک ایسی جگہ کا تصورابھرتا ہے جہاں قیدی سنگین نوعیت کی پابندیوں میں شب و روز گذار رہے ہوتے ہیں مگرسعودی عرب کی ایک جیل ایک روز قید خانے کے بجائے شادی ہال کا منظر پیش کرنے لگی جب جیل انتظامیہ نے زیرحراست ایک سعودی کی شادی رچالی۔عرب ٹی وی کے مطابق شادی کی یہ منفرد تقریب سعودی دارالحکومت ریاض میں قائم الحائر جیل میں منعقد کی گئی جہاں جیل انتظامیہ اور قیدیوں نے خوب ہلا گلا کیا۔

یہ تقریب اس اعتبار سے بھی منفرد رہی کہ اس میں نہ صرف جیل انتظامیہ نے پوری تیاری سے حصہ لیا بلکہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن نایف بن عبدالعزیز نے دلہا کے لیے 10 ہزار ریال اور دلہن کے لیے عالمی برانڈ کی ایک بیش قیمت گھڑی تحفے میں بھیجی۔انتظامیہ نے جیل کے ایک ہال کو شادی کی تقریب کے لیے خوب سجا رکھا تھا، جہاں آنے والے مہمانوں کی لذیذ کھانوں سے تواضع بھی کی گئی۔

دلہا دلہن کا جیل ہی میں نکاح پڑھایا گیا۔جیل میں جس سعودی شہری کی شادی کی تقریب منعقد کی گئی وہ سیکیورٹی سے متعلق الزامات کے تحت وہاں قید ہے۔ سوشل میڈیا پر جیل میں منعقد ہونے والی شادی کی منفرد تقریب کی خوب پذیرائی کی گئی ہے اور اسے سعودی عرب کی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ حسن سلوک کی زندہ مثال کے طورپر پیش کیا جا رہا ہے۔

15/03/2016 - 19:54:14 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان