سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ،ڈویلپمنٹ اور اصلاحات کا اجلاس
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 18:02:17 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 18:02:17 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 18:02:17 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:53:34 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:53:34 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:51:32 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:51:31 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:48:40 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:46:01 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:46:00 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:37:20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:13 اسلام آباد کی مزید خبریں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ،ڈویلپمنٹ اور اصلاحات کا اجلاس

کچھی کینال منصوبہ میں 70 ارب روپے کی کرپشن کا انکشاف،نیب نے انکوائری شروع کر دی , کہ سی پیک کسی صوبے کا نہیں پورے ملک کا منصوبہ ہے جو گیم چینجر ثابت ہوگا، احسن اقبال کی بریفنگ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ، ڈیویلپمنٹ اور اصلاحات میں انکشاف ہوا ہے کہ کچھی کینال منصوبہ میں 70 ارب روپے کی کرپشن کی گئی ہے کچھی کینال کرپشن پر نیب نے انکوائری شروع کر دی ہے اس حوالے سے وزیر اعظم میاں نواز شریف نے بھی سپریم کورٹ کے سینئر جج کی سربراہی میں اعلی سطح کمیٹی قائم کر دی جس میں سیکرٹری خزانہ ، سیکرٹری منصوبہ بندی و ڈیویلپمنٹ اور سیکرٹری پانی و بجلی ارکان میں شامل ہوں گے یہ کمیٹی وزیر اعظم کو 60 دن کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرے گی ۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر سید طاہر حسین مشہدی نے کہا ہے کہ کچھی کینال کو کمائی اور لوٹ مار کا ذریعہ بنایا گیا ہے جو کہ عوام کے ساتھ ظلم عظیم ہے اور یہ مجرمانہ فعل ناقابل معافی ہے ۔ چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے اعتراف کیا ہے کہ کچھی کینال میں کرپشن کی وجہ منصوبہ میں تاخیر ہے اور سال 2003 ء میں پی سی ون کے بغیر ایکنک نے فنڈز جاری کر دیئے تھے جو کہ غیر قانونی طریقہ کار تھا ۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی ، ڈیویلپمنٹ اور اصلاحات کا اجلاس گزشتہ روز سینیٹر کرنل (ر) طاہر حسین مشہدی کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں ہوا جس میں سینیٹر مفتی عبدالستار ، سینیٹر حاصل خان برنجو ، سینیٹر عثمان کاکڑ ، سینیٹر سعید الحسن مندوخیل ، سینیٹر آغا شہباز خان درانی ، سینیٹر محسن لغاری ، سینیٹر نوبزادہ سیف اللہ مگسی ، سینیٹر شیری رحمان ، سینیٹر کریم احمد خواجہ ، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و اصلاحات احسن اقبال ، وفاقی وزیر پارلیمانی امور آفتاب شیخ لے علاوہ چیئرمین واپڈا ظفر محمود ، پروجیکٹ منیجر کچھی کینال عرفان اللہ مروت ، سیکرٹری منصوبہ بندی و ڈیویلپمنٹ نسیم یوسف کھوکھر اور دیگر اعلی حکام نے شرکت کی ہے ۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی و اصلاحات احسن اقبال نے سی پیک پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک کسی صوبے کا نہیں پورے ملک کا منصوبہ ہے اور یہ منصوبہ پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا ۔انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے ویسٹرن روٹ پر تین یونیورسٹیاں بنائی جا رہی ہیں جس سے کم ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں میں تعلیم کو اجاگر کرنے میں مدد ملے گی انہوں نے بتایا کہ جن منصوبوں کی فنڈز جاری نہیں ہوتے اس کی منظوری بے سود ہوتی ہے ۔

انہوں نے بتایا ہے کہ اورنج ٹرین منصوبہ سی پیک کا حصہ نہیں ہے اور یہ صوبہ پنجاب اپنے بجٹ سے تیار کر رہا ہے ۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طاہر مشہدی نے کچھی کینال پر 70 ارب روپے کی کرپشن کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں کو بے دردی سے لوٹا جا رہا ہے اور کچھی کینال کو کمائی اور لوٹ مار کا ذریعہ بنایا گیا ہے جو کہ مجرمانہ فعل ہے ۔

چیئرمین واپڈا ظفر محمود نے کمیٹی کو کچھی کینال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ کچھی کینال میں کرپشن کی اصل وجہ منصوبہ کی تکمیل میں تاخیر ہے اور اس طرح منصوبہ کا پی سی ون تیار کئے بغیر سال 2003 میں ایکنک نے فنڈز جاری کر دیئے تھے جو کہ غیر قانونی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ سال 2003 میں کچھی کینال منصوبہ کی لاگت 31 ارب 20 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھی گئی تھی اسی طرح منصوبہ میں تاخیر کی وجہ سے کچھی کینال

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 17:51:32 :وقت اشاعت