قومی اسمبلی میں پاک افغان بارڈر کی سکیورٹی مضبوط کرنے کی قرارداد منظور کر لی ‘ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:46:01 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:46:00 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:37:20 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:36:36 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:35:58 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:34:29 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:34:29 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:33:06 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:29:50 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:19:04 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:15:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی میں پاک افغان بارڈر کی سکیورٹی مضبوط کرنے کی قرارداد منظور کر لی ‘ فنڈز نہ ملنے پر اپوزیشن کی خواتین ارکان کا واک آؤٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔ 15 مارچ۔2015ء)قومی اسمبلی میں پاک افغان بارڈر کی سکیورٹی مضبوط کرنے کی قرارداد منظور کر لی گئی جبکہ فنڈز نہ ملنے پر اپوزیشن کی خواتین ارکان نے واک آؤٹ کیا۔سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں تحریک انصاف کے رکن مراد سعید نے پاک افغان بارڈر کی سکیورٹی مضبوط کرنے کی قرارداد پیش کی۔

جس کی پارلیمانی سیکرٹری داخلہ نے مخالفت کی۔ پارلیمانی سیکرٹری داخلہ نے کہا کہ قرارداد میں اٹھائے گئے نکات نیشنل سکیورٹی کا حصہ ہیں۔ رکن اسمبلی مریم اورنگزیب نے کہا کہ اے پی ایس پر حملہ ہوا تو اس وقت صوبائی حکومت سو رہی تھی۔ آرمی پبلک سکول حملے کے بعد نادرا کے ساتھ ملکر اقدامات اٹھائے ہیں۔ نادرا کے ساتھ مل کر بارڈر کارڈ جاری کیا جائے گا، اس کی مانیٹرنگ کی جائے گی۔

چمن اور طورخم بارڈر پر نقل وحرکت روکنے کے لئے ایف آئی اے کے قواعد لاگو کرنے کی سمری صدر کو بھجوا دی ہے۔ غلط شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کئے جا رہے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہا کہ افغان بارڈر کی سکیورٹی مضبوط کرنے کے حکومتی پالیسی کے باوجود حکومت کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔ حکومت کو بتانا چاہئے کہ خارجہ اور داخلہ پالیسی الگ الگ ہیں۔

پارلیمانی سیکرٹری داخلہ کے بیان کی وضاحت ہونی چاہئیے۔ مولانا امیر زمان نے کہا کہ افغان بارڈر کو بند کرنے کی بات کچھ خاندانون کو ملنے کو روکنے کے مترادف ہو گا۔ صاحبزادہ طارق اﷲ نے کہا کہ نیشنل

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 17:34:29 :وقت اشاعت