پشاور میں درسی کتب چھاپنے والے پرنٹنگ پریس 8 ماہ سے مکمل طور پر بند
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:37:20 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:36:36 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:35:58 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:34:29 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:34:29 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:33:06 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:29:50 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:19:04 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:15:33 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:10:41 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 17:09:59
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پشاور میں درسی کتب چھاپنے والے پرنٹنگ پریس 8 ماہ سے مکمل طور پر بند

پشاور(اُردو پوائنٹ تازہ ترین ۔۔ آئی پی اے ۔۔ 15 مارچ۔2015ء)پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع واحد صنعتی زون حیات آباد انڈسٹریل سٹیٹ میں درسی کتب چھاپنے والے زیادہ تر پرنٹنگ پریس تقریباً آٹھ ماہ سے مکمل طور پر بند پڑے ہیں۔ان چھوٹے بڑے کارخانوں میں نصب لاکھوں روپے کی قیمتی مشینری کو آہستہ آہستہ زنگ لگنا شروع ہوگیا ہے اور مالکان اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس بھاری اور قیمتی مشینری کو سکریپ میں فروخت کر کے مزید نقصان سے بچا جائے۔

اس بندش کی وجہ مالکان خیبر پختونخوا میں حکومت کی طرف سے درسی کتب چھاپنے کے ضمن میں نافذ کردہ نئے قوانین کو قرار دیتے ہیں جن کی وجہ سے درسی کتب چھاپنے کے زیادہ تر ٹھیکے مقامی چھاپہ خانوں کی جگہ پنجاب کی بڑی پبلشنگ کمپینوں کو مل گئے ہیں۔اس وجہ سے جہاں پشاور میں 70 سے زائد چھاپا خانوں کو تالے لگ چکے ہیں وہیں ان سے وابستہ دس سے پندرہ ہزار کے قریب افراد بھی بیروزگار ہو چکے ہیں۔

حیات آباد صنعتی زون میں واقع سپین زر پرنٹنگ پریس کے مالک اور خیبر پختونخوا پرنٹرز اینڈ پبلشرز ایسوسی ایشن کے رہنما شہریار لودھی کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیکسٹ بک بورڈ کی طرف سے کوٹے کے حساب سے چھاپا خانوں کو کام کے ٹھیکے ملتے تھے لیکن اب طریقہ کار تبدیل کر کے ٹینڈر کا طریقہ متعارف کروا دیا گیا ہے۔انھوں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 17:33:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان