تحفظ نسواں کا قانون شریعت کے خلاف تو ہے ہی یہ قانون معاشرتی اقدار کی بھی نفی کرتا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:13:45 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:13:45 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:13:45 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:11:06 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:11:06 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:10:24 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:10:24 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:10:24 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 15:09:25 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 14:59:16 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 14:59:15
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

تحفظ نسواں کا قانون شریعت کے خلاف تو ہے ہی یہ قانون معاشرتی اقدار کی بھی نفی کرتا ہے ‘ ہمارے معاشرے اور خاندانوں میں جاہلانہ روایات ہیں خواتین پر تشدد ایک جرم ہے اور کوئی شخص بھی اس کی حمایت نہیں کر سکتا‘قرآن میں ہے کہ اگر اختلاف ہو تو میاں بیوی کے رشتے داروں سے بندے چنیں جومصالحت کرائیں لیکن‘یہاں کنگن پہنایا جائے گا

جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا مذہبی وسیاسی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) جمعیت علمااسلام(ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے اور خاندانوں میں جاہلانہ روایات ہیں خواتین پر تشدد ایک جرم ہے اور کوئی شخص بھی اس کی حمایت نہیں کر سکتا‘ تحفظ نسواں کا قانون شریعت کے خلاف تو ہے ہی یہ قانون معاشرتی اقدار کی بھی نفی کرتا ہے قرآن میں ہے کہ اگر اختلاف ہو تو میاں بیوی کے رشتے داروں سے بندے چنیں جومصالحت کرائیں لیکن یہاں تو مصالحت کی گنجائش ہی نہیں‘یہاں کنگن پہنایا جائے گا اور گھر سے باہر نکالا جائے ۔

وہ منصور میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جبکہ اس موقع پرماعت اسلامی کے مرکزی امیر سینیٹر سراج الحق، جمعیت علما اسلام نورانی کے سربراہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیرُجماعت الدعوة کے پروفیسر حافظ محمد سعید،‘جے یوآئی (س) کے مولانا سمیع الحق ‘جے یوآئی ( ف) کے حافظ حسین احمد ‘مجلس وحدت مسلمین علامہ امین شہیدی ‘جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ سمیت دیگر بھی موجود تھے مولانا فضل الر حمن نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تحفظ خواتین بل پروزیر اعظم اور وزیر اعلی پنجاب کو اپنے تحفظات سے آگاہ کر دیا ہے تاہم شہباز شریف نے فون کر کے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا تھاجس پر میں نے شہباز شریف سے ملنے سے اعتراض کیا‘ شہباز شریف کے بعد وزیرا عظم نواز شریف نے ان سے رابطہ کیا تھا اورتحفظ خواتین بل کے حوالے سے احتجاج پر نظرثانی کا کہا تو انہوں نے جواب دیا کہ اجلاس کے بعد جواب دے سکوں گا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے ان سے کہا کہ وہ ملک میں بحران پیدا نہیں کرنا چاہتے اوریقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق کی سطح پر علمااکرام سے ملکر خواتین کے تحفظ کا بل لایا جائے‘وزیر اعظم نے کہا ہے کہ پنجاب کی سطح پر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 15:10:24 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان