مسئلہ کشمیرپرعالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے، علی رضاسید
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مسئلہ کشمیرپرعالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے، علی رضاسید

برسلز(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) چیئرمین کشمیرکونسل یورپ (ای یو) علی رضاسید نے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر انسانیت کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔ اس لیے اس مسئلہ پر عالمی برادری کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ خاص طورپر امن کے تحفظ کے لیے اس مسئلے کو فوری طورپرحل کرنابہت ضروری ہوگیاہے۔ان خیالات اظہارانھوں نے ورلڈ مسلم کانگرس کے زیراہتمام جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کے 31ویں اجلاس کے دوران ایک سائیڈ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سیمینار کے دوران نظامت کے فرائض الطاف حسین وانی کے انجام دیئے۔ سیمینارکے دیگر مقررین میں برسلزپارلیمنٹ کے رکن ڈاکٹرظہورمنظور، ڈاکٹرکارین پارکر، اندرے بارکس، ایمیما عبدالسلام اوردانیلا ڈونگس شامل تھے۔اس موقع پرکشمیری پروفیسرسید عبدالرحمان گیلانی پربھارت کی طرف سے لگائے جانے والے بغاوت کے الزامات کے بارے میں ایک دستاویزی فلم بھی پیش کی گئی۔

چیئرمین کشمیرکونسل ای یو علی رضاسید نے اپنے خطاب میں کہاکہ جموں وکشمیرمیں مصائب اور ناانصافی صرف ایک کمیونٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ مسئلہ انسانیت کے لیے ایک مسلمہ خطرہ ہے۔ امن کے حصول کے لیے اس مسئلے پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ہمیں امید ہے کہ انصاف ضرورطاقت پر غالب آئے گا۔ میں کشمیرکی تاریخ بیان نہیں کرناچاہتاہے ۔ صرف اتناکہناچاہتاہوں کہ اس تنازعے کے دوران قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں، عورتوں کی عصمت دری ہوچکی ہے، ہرطرف ناانصافی ہی ناانصافی ہے۔

یہ صورتحال صرف کشمیرکے لوگوں تک محدودنہیں بلکہ پاکستان ، بھارت اور پورے جنوبی ایشیاء کی ڈیرھ ارب افراد کی آبادی اس سے متاثر ہورہی ہے۔یہ بدنصیب خطہ گذشتہ سات عشروں سے اس حل طلب مسئلے کی وجہ سے یرغمال بناہواہے۔ اس خطے کی حکومتیں جہاں پہلے ہی غربت، بیماری، ناخواندگی، ناقص طرز حکومت اور بدعنوانی ہے، اپنے ملکوں کے وسیع ذرائع کو اسلحہ بنانے پراستعمال کرنے پر مجبورہیں اور اس اسلحے میں میزائل اور ایٹمی پروگرام تک شامل ہیں۔

مقبوضہ کشمیرمیں بے نام قبروں کا ذکرکرتے ہوئے علی رضاسید نے کہاکہ دس ہزار سے زائد لوگ لاپتہ ہوئے ہیں۔ بھارتی حکومت نے ان قبروں مین دفن افراد کاڈی این اے ٹیسٹ کرانے سے انکار کردیا۔جبکہ بھارتی حکمران یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں مارے جانے والا ہرکوئی عسکریت پسندیا کوئی غیرملکی تھا۔اگربھارت اپنے دعوے میں سچاہے تو ڈی این ٹیسٹ کرانے سے ان لوگوں کی شناخت واضح ہوجائے گی۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 14:08:17 :وقت اشاعت