سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنما کی امریکی صدر کی جانب سے مشرق ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 13:57:22 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 13:53:46 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 13:18:05 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 13:14:09 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 13:14:09 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 13:14:09 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:41:39 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:40:39 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:40:39 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:38:52 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:38:52
پچھلی خبریں - مزید خبریں

سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے سینئر رہنما کی امریکی صدر کی جانب سے مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دینے پر تنقید

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء) سعودی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایک سینئررہنما نے امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے انہیں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کا ذمہ دار قرار دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق دنیا میں سب سے زیادہ تیل فروخت کرنے والی مشرق وسطیٰ کی ریاست سعودی عرب گذشتہ کئی سالوں سے امریکا کی اتحادی ہے تاہم اوباما کے دور حکومت میں ان کے درمیان تعلقات کشیدہ صورت حال اختیار کرگئے۔

سعودی عرب نے امریکا اور دیگر عالمی طاقتوں، اور ایران کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے پر تشویش کا اظہار کیا اور اسے خطے میں خوف میں اضافہ کی وجہ قرار دیا ہے۔سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف اور امریکا میں سفیر پرنس ترکی الفیصل نے ایک سعودی اخبار میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں اوباما کے اٹلانٹک میگزین کو دیئے گئے انٹرویو پر برہمی کا اظہار کیا ۔

ترکی الفیصل نے لکھا کہ آپ ہمیں شام، عراق اور یمن میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، ایران کے ساتھ ہماری دنیا کے اشتراک کا بتا کر آپ نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ایک ایسی ریاست

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

15/03/2016 - 13:14:09 :وقت اشاعت