شہریوں کی داعش میں شمولیت پر مالدیپ حکومت پریشان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
منگل مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:38:52 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:38:52 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:37:42 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:37:41 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:37:41 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:36:52 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:36:51 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:36:51 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:32:52 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:32:52 وقت اشاعت: 15/03/2016 - 12:32:06
پچھلی خبریں - مزید خبریں

شہریوں کی داعش میں شمولیت پر مالدیپ حکومت پریشان

نئی دہلی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔15 مارچ۔2016ء)مالدیپ کی حکومت نے اپنے شہریوں کی شدت پسند گروپ دولت اسلامی ”داعش“ کی صفوں میں بھرتی ہونے کی خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جنوبی ایشیا کے مسلمان ملک مالدیپ کے وزیرخارجہ نصر محمد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہیں مالدیپ کے کچھ لوگوں کے داعش کی صفوں میں شامل ہونے پر گہری تشویش ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ ارخبیل کے علاقے سے تعلق رکھنے والے 40 مالدیپی باشندے مشرق وسطیٰ میں سرگرم دولت اسلامی میں شمولیت کے لیے جا چکے ہیں۔نئی دہلی میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیرخارجہ نصر محمد نے کہا کہ سیکیورٹی کے حوالے سے یہ بات ہم سب کے لیے باعث تشویش ہے کہ ہمارے ملک کے کچھ لوگ داعش میں شامل ہونے کے لیے مشرق وسطیٰ کے ملکوں میں جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ غیرقانونی طورپر مشرق وسطیٰ جانے والے مالدیپی شہریوں کی تعداد 40 ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی دوسرے ملک کی طرح مالدیپ کی حکومت کو بھی اپنے شہریوں کے داعش کی صفوں میں شامل ہونے پر تشویش ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ برس مالدیپ کی حکومت نے انسداد دہشت گردی کا ایک نیا قانون منظور کیا تھا جس کے تحت داعش میں شمولیت اختیار کرنے یا اس گروپ سے ہمدردری رکھنے کو سنگین جرم قرار دیا گیا تھا۔

15/03/2016 - 12:36:52 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان