عدالتی احکاما ت نظر انداز، ایف بی آر کی طرف سے لاکھوں روپے سکینڈل میں23افسران کو ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 15/03/2016 - 01:46:41 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:49:35 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:48:59 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:48:59 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:48:59 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:47:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:45:56 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:45:56 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:44:24 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:44:24 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 22:43:07
- مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 20/01/2017 - 09:09:59 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:05 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:06 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:09 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:05:16 وقت اشاعت: 19/01/2017 - 11:11:11 اسلام آباد کی مزید خبریں

عدالتی احکاما ت نظر انداز، ایف بی آر کی طرف سے لاکھوں روپے سکینڈل میں23افسران کو قانونی شکنجہ سے بچانے کا پردہ فاش

ایف بی آر نے نجی بنک کو بھاری مالی فوائد دے کر فائل سرد خانے میں ڈال دی , سپریم کورٹ سے حقائق چھپائے گئے

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء)ایف بی آر کی طرف سے عدالت عظمیٰ کے احکامات کو نظر انداز کرکے کئی ملین روپے سکینڈل میں23افسران کو قانون کے شکنجہ سے بچانے کے حقائق منظر عام پر آگئے ہیں،ایف بی آر کے25افسران نے پروڈنشل بنک کیخلاف کئی ملین روپے کا مقدمہ عدم پیروی کی بناء پر ہارا تھا جس پر سپریم کورٹ نے سخت نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار افسران کی نشاندہی کی ہدایت کی تھی۔

ایف بی آر کے چیئرمین ،ممبر ایڈمن اور چیف مینجمنٹ آئی آر نے اعلیٰ افسران کو بچانے کی خاطر ایف بی آر کے صرف دو افسران کو مقدمہ ہارنے کا ذمہ دار قرار دے کر دیگر23افسران کو کلین چٹ دے دی ۔آن لائن کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق پروڈنشل بنک لمیٹڈ کے اثاثے اور ٹیکسز وصولی کا تخمینہ لگانے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس پر ایف بی آر کے افسر سی آئی ٹی سکھر نے بلوچستان ہائی کورٹ میں 2000ء میں مقدمہ دائر کیا۔

یہ مقدمہ 10سال تک بلوچستان ہائی کورٹ میں زیر سماعت رہا تاہم بروقت پیروی نہ کرنے پر یہ مقدمہ کا فیصلہ ایف بی آر کے خلاف ہوگیا تھا بلوچستان ہائی کورٹ کے فیصلہ کیخلاف ایف بی آر نے اپیل عدالت عظمیٰ میں دائر کی۔سابق چیف جسٹس کے حکم پر مقدمہ کی پیروی نہ کرنے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کی اعلیٰ پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔

عدالت عظمیٰ کے حکم پر 21گریڈ کے دو سید اعجاز حسین شاہ اور ہارون ایم شرین پر مشتمل دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی تھی ،جنہوں نے اپنی رپورٹ جمع کی تھی جنہوں نے تقریباً 25بندوں کے نام دئیے تھے جن میں کمشنر محمد فیاض خان،کمشنر محمد اسحاق میمن،ایڈیشنل کمشنر محمد قمرالدین،ایڈیشنل کمشنر اکبر بگٹی،ایڈیشنل کمشنر ڈاکٹر فضل محمود البریج ودیگر افسران میں پرشوتم داس واشوانی،سعید احمد ،چیف کمشنر عاقل عثمان،چیف کمشنر محمد یونس خان،کمشنر لیگل عزیز احمد بلور،نوشاد علی،الطاف احمد خان،آفتاب احمد خان،ڈاکٹر محمد ارشاد،،سرفراز احمد،شہربانو ولاجی،فاطمہ حسین،عائشہ خالد،جاوید اقبال،انورزیب،محمد نثار احمد،امین قریشی،انعام الحق،نوید مختار،شمس

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 22:48:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان