سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سائنس و ٹیکنالوجی نے نسٹ ترمیمی بل2016 منظور کر لیا ،لاجسٹک ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:48:32 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:41:49 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:40:03 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:40:03 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:38:24 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:35:35 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:29:30 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:26:30
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی سائنس و ٹیکنالوجی نے نسٹ ترمیمی بل2016 منظور کر لیا ،لاجسٹک پارک کیلئے مختلف سائٹس کے جائزہ اوروزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی سفارش

منصوبہ جات اگربر وقت مکمل کر لئے جائیں تو ملک کو اربوں روپے کا نقصان نہ اٹھانا پڑے ، کوشش ہے کہ پہلے سے جاری شدہ منصوبوں کو پہلے مکمل کیا جائے ،اس حوالے سے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں ،وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی کمیٹی کو بریفنگ , ایک ملین میں مکمل ہونے والا منصوبہ تاخیر کی وجہ سے50 ملین میں مکمل ہوتا ہے، سینیٹر اعظم سواتی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے نسٹ ترمیمی بل2016کو منظور کر لیا اور لاجسٹک پارک کیلئے مختلف سائٹس کا جائزہ لینے کی سفارش کرتے ہوئے حکومت سے وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے فنڈز کی فراہمی کی سفارش کر دی۔قائمہ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤ س میں چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان سیف اﷲ خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے مالی سال2015-16کے مختص بجٹ ،مالی سال2016-17کے بجٹ کے معاملات کے علاوہ پاک چائنا سائنس ٹیکنالوجی ،کامرس اور لاجسٹک پارک کے قیام کے حوالے سے معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔سیکرٹری سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فضل عباس میکن نے قائمہ کمیٹی کو وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے بجٹ کے حوالے سے تفصیل سے آگاہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وزارت کے ماتحت 14 ادارے کام کر کرہے ہیں جن میں دو یونیورسٹیاں بھی شامل ہیں۔سائنس و ٹیکنالوجی انتہائی اہم ا دارہ ہے کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار اس شعبے کے فروغ پر منحصر ہے۔مگر بدقسمتی سے پاکستان نے اس ادارے کو موثربجٹ فراہم نہیں کیا جاتا ۔مالی سال2015-16کیلئے3ارب روپے کا مطالبہ کیا تھا مگر آدھا بجٹ فراہم کیا گیا۔اگر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کرنا ہے تو اس شعبے کیلئے جی ڈی پی کا ایک فیصد مختص کیا جائے موجودہ سال 0.29فیصد مختص کیا گیا تھا ۔

ادارے کے پاس 25منصوبہ جات ایسے ہیں جو پہلے سے جاری ہیں ان میں سے7 اس سال جون میں مکمل ہوجائیں گے اور18فنڈ ملنے کی صورت میں ایک سال میں مکمل ہو جائینگے۔جس پر وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی رانا تنویر حسین نے کہا کہ منصوبہ جات اگر وقت پر مکمل کر لئے جائیں تو ملک کو اربوں روپے کا نقصان نہ اٹھانا پڑے۔کوشش کی جارہی ہے کہ پہلے سے جاری شدہ منصوبوں کو پہلے مکمل کیا جائے اور اس حوالے سے اقدامات بھی اٹھائے جا رہے ہیں تاکہ ملک و قوم کو نقصان نہ ہو۔

ہمارے کمیشن کی 14 سال سے میٹنگ نہیں ہوئی تھی اور ایگز یکٹو کمیٹی کی سال میں دو دفعہ میٹنگ ہونی ضروری ہے ۔اس کی بھی ہدایت کر دی ہے۔جس پر سیکرٹری سائنس و ٹیکنالوجی نے کہا کہ ادارے کو فنڈ کورٹر وائز ملتے ہیں جس سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔سازو سامان خریدنے کیلئے اکٹھے بجٹ کا حصول ضروری ہے۔سینیٹر اعظم خان سواتی نے کہا کہ ایک ملین میں مکمل ہونے والا منصوبہ تاخیر کی وجہ سے50 ملین میں مکمل ہوتا ہے۔

چیئرمین کمیٹی سینیٹر عثمان سیف اﷲ نے کہا کہ سائنس و ٹیکنالوجی کا ادارہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ان اداروں کے منصوبہ جات کیلئے حکومت کو اضافی فنڈز فراہم کرنے چاہئیں فنڈز کی قلت کی وجہ سے انتہائی اہمیت کے حامل منصوبے مکمل نہیں ہو رہے۔انہوں نے کہا کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوشنو گرافی کیلئے جتنا فنڈز فراہم کیا گیا ہے اس سے وہ منصوبہ 20سال میں مکمل نہیں ہو گا۔

ملک کے 82فیصد عوام کو پینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے حکومت کو اپنی ترجیحات کا جائزہ لینا چاہئے۔اور قائمہ کمیٹی سفارش کرتی ہے کہ وزارت سائنس و ٹیکنالوجی دو سال کے اندر جاری منصوبہ جات

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 21:40:03 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان