سپیکر قومی اسمبلی کا وزارت داخلہ اورتحفظ خوراک کے کچھ سوالات کے ایک سال کا عرصہ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:41:49 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:40:03 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:40:03 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:38:24 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:35:35 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:29:30 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:26:30 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:26:30
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

سپیکر قومی اسمبلی کا وزارت داخلہ اورتحفظ خوراک کے کچھ سوالات کے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جوابات نہ آنے اور بعض وزارتوں کے سیکرٹریز کی لابی میں عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار

اگر بیورو کریسی کو میری زبان سمجھ نہیں آتی تو اسی زبان میں سمجھاؤں گا جو یہ سمجھتے ہیں ، ایاز صادق کا فوری سیکرٹری داخلہ کو سپیکر چیمبر میں بلانے کا بھی حکم , 2018 تک لوڈ شیڈنگ پرمکمل قابو پا لیا جائے گا ،2017 کے اختتام تک 10 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی ، آئندہ سال بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی پیداوار میں 17 ہزار میگا واٹ تھی ،اسے اڑھائی سالوں میں 17 ہزار 900 میگا واٹ تک پہنچا دیا،وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی ، پارلیمانی سیکرٹریز تحفظ خوراک ، قومی صحت اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے وفقہ سوالات میں ارکان کے سوالوں کے جواب

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات میں وزارت داخلہ اور وزارت فوڈ سیکیورٹی کے بعض سوالات کے ایک سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود جوابات نہ آنے اور بعض وزارتوں کے سیکرٹریز کی لابی میں عدم موجودگی پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ریمارکس دیئے کہ اگر بیورو کریسی کو میری زبان سمجھ نہیں آتی تو اسی زبان میں سمجھاؤں گا جو یہ سمجھتے ہیں ، سپیکر نے فوری طورپر سیکرٹری داخلہ کو سپیکر چیمبر میں بلانے کا بھی حکم جاری کیا ، وقفہ سوالات میں حکومت کی طرف سے ایوان کو آگاہ کیا گیا کہ 2018 تک ملک میں لوڈ شیڈنگ پر قابو پا لیا جائے گا ،2017 کے اختتام تک 10 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کر دی جائے گی ، 2017 میں بھاشا ڈیم پر کام کا آغاز کر دیا جائے گا ، پیپلز پارٹی کے دور میں بجلی کی پیداوار میں 17 ہزار میگا واٹ تھی جسے اڑھائی سالوں میں 17 ہزار 900 میگا واٹ تک پہنچا دیا ۔

پیر کو وقفہ سوالات میں حکومت کی طرف سے وزیر مملکت پانی و بجلی عابد شیر علی ، پارلیمانی سیکرٹری فوڈ سیکیورٹی رجب بلوچ ، پارلیمانی سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر درشن اور پارلیمانی سیکرٹری برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس نے ارکان کے سوالات کے جواب دیئے۔ سید نوید قمر نے کہا کہ وقفہ سوالات میں متعدد سوالوں کے جواب موصول نہیں ہوئے بالخصوص پہلا سوال 21 ویں سیشن میں پوچھا گیا اور 30 ویں سیشن میں بھی جواب نہیں آیا سپیکر اس کا نوٹس لیں اور رولنگ دیں ۔

سپیکر نے کہا کہ یہ سوال 18 مارچ کو کابینہ سیکرٹریٹ نے داخلہ کو بھجوایا انہوں نے معاملے پر سیکرٹری داخلہ کو طلب کیا اور کہا کہ لگتا ہے کہ اسی زبان میں بات کرنی پڑے گی جو زبان بیورو کریسی سمجھتی ہے ۔ بیگم حسنین کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر درشن نے کہا کہ ہیپاٹائٹس کنٹرول کے چار پروگرام چاروں صوبوں میں چل رہے ہیں ۔

پنجاب میں 80، سندھ میں 54 ، کے پی کے میں 33 اور بلوچستان میں 4 مراکز کام کر رہے ہیں ۔ گزشتہ پانچ سالوں میں پنجاب میں 94500 ، سندھ میں 1 لاکھ 19 ہزار 717 ، کے پی کے میں 31 ہزار 317 اور بلوچستان میں 4029 مریضوں کا علاج کیا گیا مجموعی طور پر پورے پاکستان میں 2 لاکھ 49 ہزار 563 مریضوں کا علاج کیا گیا ۔ قومی انسداد ٹی بی پروگرام کے تحت گزشتہ 5 سالوں میں 9 لاکھ 41 ہزار 889 لوگوں کا علاج کیا گیا ۔

ساجدہ بیگم کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری پورٹس اینڈ شپنگ میاں امتیاز احمد نے کہا کہ ملک میں اس وقت پورٹ قاسم، کراچی پورٹ ٹرسٹ اور گوادر پورٹ کے نام سے 3 پورٹس اتھارٹیز کام کررہی ہیں ۔ شاہدہ رحمانی کے سوال کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 21:40:03 :وقت اشاعت