قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پی آئی اے کو نجی کمپنی بنانے کے ترمیمی بل کی منظوری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:45:53 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:41:49 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:40:03 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:40:03 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:38:24 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:35:35 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:29:30 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:26:30 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 21:26:30 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 20:56:56
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

قومی اسمبلی میں اپوزیشن نے پی آئی اے کو نجی کمپنی بنانے کے ترمیمی بل کی منظوری کیلئے حکومتی تحریک کی مخالفت کردی

ایوان میں بحث کے بعد سپیکر کی تجویز پر اتفاق رائے کے حصول کیلئے معاملہ 2دن کیلئے موخر , حکومت پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پی آئی اے نجکاری بل منظور کرانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، اگر حکومت نے سینیٹ کا فیصلہ عددی اکثریت پر قومی اسمبلی میں بلڈوز کیا تو صوبوں کو اچھا پیغام نہیں جائیگا،حکومت کے فیصلوں سے دونوں ایوانوں میں تفریق پیدا کی جا رہی ہے، تحریک پر بحث کے دوران نو ید قمر، شیریں مزاری،شیخ رشید، محمود اچکزئی، صاحبزادہ طارق اﷲ اور کنور نویدکا اظہار خیال

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) قومی اسمبلی میں پی آئی اے کو کارپوریشن سے پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی بنانے کے ترمیمی بل کی منظوری کے لئے حکومت کی طرف سے پیش کی گئی تحریک اپوزیشن کی مخالفت اور ایوان میں بحث کے بعد سپیکر ایاز صادق کی تجویز پر اتفاق رائے کے حصول کیلئے 2دن کیلئے موخر کر دی گئی۔ پیر کو وزیر مملکت شیخ آفتاب نے تحریک ایوان میں منظوری کیلئے پیش کی تو پی پی پی کے سید نوید قمر نے تحریک کی مخالفت کی، جس پر سپیکر نے تحریک پر بحث کرائی، سید نوید قمر سمیت عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید احمد، پی ٹی آئی کی چیف وہیپ شیریں مزاری، پختونخوا میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی، جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر صاحبزادہ طارق اﷲ اور ایم کیو ایم کے کنور نوید جمیل نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے بل منظور کرانے کے فیصلے پر نظرثانی کرے، اگر حکومت نے چاروں صوبوں اور فیڈریشن کے نمائندہ ایوان، سینیٹ کا فیصلہ عددی اکثریت پر قومی اسمبلی میں بلڈوز کیا تو صوبوں کو اچھا پیغام نہیں جائے گا، بحث کے بعد سپیکر نے حکومت کو اپوزیشن سے مشاورت کر کے اتفاق رائے کے حصول کیلئے بل دو دن موخر کرنے کی تجویز دی، جسے حکومت نے تسلیم کرلیا، جس پر بل دو دن کیلئے موخر کر دیا گیا۔

قبل ازیں پی آئی اے ترمیمی بل کی منظوری کیلئے مشترکہ اجلاس بلانے کی حکومتی تحریک کی مخالفت کرتے ہوئے نوید قمر نے کہا کہ یہ ایک اور کالا دن ہو گا کہ سینیٹ سے مسترد ہونے والے بل منظور کرانے کیلئے مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، حکومت کے فیصلوں کی وجہ سے دونوں ایوانوں میں تفریق پیدا کی جا رہی ہے، پی پی پی کے دور میں تمام قانون سازی اتفاق رائے سے کی گئی، اگر صوبوں کے نمائندہ ایوان نے کوئی بل مسترد کئے ہیں تو حکومت کو چاہیے تھا کہ ان بلوں کو قابل قبول بنانے کے اقدامات کرتی، مگر حکومت مزید کنفیوژن پیدا کرنا چاہتی ہے، اب حکومت اس بل کو بلڈوز کرنے کیلئے مشترکہ اجلاس بلانا چاہتی ہے، میں بل کی شدید مخالفت کرتا ہوں۔

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 21:38:24 :وقت اشاعت