متحدہ قومی موومنٹ کو ایک اور بڑا جھٹکا، رضا ہارون بھی مصطفی کمال کے قافلے میں شامل
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:48:35 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:48:35 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:41:44 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:36:32 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:36:32 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:36:31 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:28:58 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:28:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:11:05 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:07:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:05:45
پچھلی خبریں - مزید خبریں

متحدہ قومی موومنٹ کو ایک اور بڑا جھٹکا، رضا ہارون بھی مصطفی کمال کے قافلے میں شامل

ایم کیو ایم کے خلاف سازش کی ضرورت نہیں،مائنس ون باہر سے نہیں اندر سے ہورہا ہے ، پارٹی ذمہ داران الطاف کی تقاریر پر پابندی برقرار رکھے جانے کے حامی ہیں ،الطاف حسین کے بیانات ہی مائنس ون فارمولے کی تکمیل کیلئے کافی ہیں ، رات کو ہیپی آور میں ’’را‘‘ سے مدد مانگنے اور نیٹو کو پاکستان آنے کی باتیں کی جاتی ہیں، پھر دن میں اس بیان کی وضاحتیں دی جاتی ہیں،نیٹو اور اقوام متحدہ تو پاکستان آ جائیں گی ، الطاف حسین کب آئے گا , ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سابق رکن رضا ہارون کا مصطفی کمال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب ،مصطفی کمال کا 23مارچ کو اپنی پارٹی کے نام کا اعلان کرنے کا عندیہ

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) متحدہ قومی موومنٹ کو ایک اور بڑا جھٹکا،ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے سابق رکن و مرکزی رہنماء رضا ہارون بھی متحدہ قومی موومنٹ کو چھوڑ کر سابق سٹی ناظم مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کے قافلے میں شامل ہو گئے،رضاہارون نے کہا ہے کہ کسی کو ایم کیو ایم کے خلاف سازش کی ضرورت نہیں،مائنس ون باہر سے نہیں اندر سے ہورہا ہے اور پارٹی ذمہ داران چاہتے ہیں کہ تقاریر پرلگی پابندی لگی رہے،الطاف حسین کے بیانات ہی مائنس ون فارمولے کی تکمیل کیلئے کافی ہیں ، رات کو ہیپی آور میں بھارتی خفیہ ایجنسی’’را‘‘ سے مدد مانگنے اور نیٹو کو پاکستان آنے کی باتیں کی جاتی ہیں، پھر دن میں اس بیان کی وضاحتیں دی جاتی ہیں،نیٹو اور اقوام متحدہ تو پاکستان آ جائیں گی ، الطاف حسین کب آئے گا،ایم کیو ایم ایک شخص کی پوجا کیلئے نہیں بنائی گئی تھی، محب وطن مہاجروں کو آج اپنی حب الوطنی کیلئے وضاحتیں دینا پڑ رہی ہیں، سابق سٹی ناظم مصطفی کمال نے 23مارچ کو پارٹی کے نام کا اعلان کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ نام سے کام پر فرق نہیں پڑے گا،فاروق بھائی کی اتنی تعریفیں کریں گے کہ خود ایم کیو ایم والے انہیں یہاں چھوڑ جائیں گے،انیس قائم خانی نے کہا کہ شاہد حیات کو منی لانڈرنگ اور ’’را‘‘ کی فنڈنگ کے حوالے سے ثبوت دینے کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں، جو سمجھتے ہیں کہ سمندر سے قطرہ نکل جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا وہ جان لیں کہ رخ بدل گیا ہے اب سمندر ادھر اور قطرہ ان کی طرف جا رہا ہے۔

وہ پیر کو یہاں مصطفی کمال کی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔قبل ازیں پریس کانفرنس شروع ہونے سے پہلے جب رضا ہارون مصطفی کمال کی رہائش گاہ پر پہنچے تو نئی جماعت کے رہنماؤں نے باری باری انہیں پرجوش طریقے سے گلے لگایا جس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ صحافیوں کو باربار زحمت دینی پڑ رہی ہے، جس پر معافی چاہتا ہوں، ابھی نہیں بتا سکتا کہ مزید کتنی دفعہ زحمت دینی پڑے گی، رضا ہارون کو اپنی، انیس قائم خانی، ڈاکٹر صغیر اور دیگر کی طرف سے پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہتے ہیں۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے رضا ہارون نے کہا کہ 3مارچ 2016 کو پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا قدم اٹھایا گیا جسے بہادری اور پاکستان سے محبت سے تنبیہ دیتا ہوں، حق کی بات کرنے کیلئے اور باطل کے سامنے کھڑے ہونے کے لئے جس بہادری اورقوت کا مظاہرہ ہوا ہے وہ مصطفی کمال اور انیس قائم خانی نے اس دن دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ 1987ء سے ایم کیو ایم سے وابستہ ہیں، ایم کیو ایم جس مقصد کیلئے بنائی گئی تھی اب وہ کیس نہیں رہا، ایم کیو ایم وڈیروں کے خلاف اور مڈل کلاس عوام کے حقوق کیلئے بنائی گئی تھی، لیکن آج ساری دنیا کی برائیاں ایم کیو ایم میں اکٹھی ہو گئی ہیں، ایم کیو ایم ایک شخص کی پوجا کیلئے تو نہیں بنائی گئی تھی، مہاجریت کو کوٹا سسٹم کے ساتھ جوڑا گیا، کیا کوئی جدوجہد کی گئی، یہ وہ ایم کیو ایم نہیں جس میں ہم آئے تھے۔

رضا ہارون نے کہا کہ ایم کیو ایم کے سارے رہنماؤں نے یہ باتیں کیں جو آج ہم کر رہے ہیں، مصطفی کمال اور ڈاکٹر صغیر نے مجھ سے پہلے جو باتیں کہیں میں ان سے مکمل اتفاق کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہر جماعت نے 18 ویں ترمیم میں اپنی بات منوالی تھی، کیا ہماری جماعت کو ٹہ سسٹم پر اپنا موقف نہیں منوا سکتی تھی، کیا ایم کیو ایم کوٹہ سٹم کے خلاف کوئی قانون لائی ہم حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم کی قیادت کی طرف سے جس طرح کی زبان استعمال کی گئی،کوئی شخص اپنی فیملی اپنی ماں ،بہن اور بیٹی کے ساتھ بیٹھ کر نہیں سن سکتا، میرا چیلنجہے کہ الطاف حسین کے خطاب کو من و عن میڈیا کے سامنے پڑھ دیں، لیکن کوئی نہیں پڑھ پائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے جب نائن زیرو میں ہوتے تھے تو کبھی کبھی رات میں ہیپی آور ہوتا ہے اور وہ ہیپی آور چوبیس گھنٹے ہوتا رہتا ہے، جس کے بعد خطاب کئے جاتے ہیں، پھر پوری ایم کیو ایم اور قوم اس کی وضاحتیں دینے لگتی ہے، مہاجر محب وطن قوم ہیں، غریب یا ہاری نہیں، سیاسی شعور رکھتے ہیں، پڑھے لکھے ہیں، اس طرح کا لیڈر نہیں چاہتے تھے، رات کو ہیپی آور میں بھارتی خفیہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 19:36:31 :وقت اشاعت