شام میں خانہ جنگی سے ماہانہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کا نقصان ہورہاہے،مطالعاتی جائزہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:06:05 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:06:05 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:03:58 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:03:58 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:03:58 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:02:36 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 19:00:39 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 18:43:37 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 18:39:49 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:42:58 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:36:51
پچھلی خبریں - مزید خبریں

شام میں خانہ جنگی سے ماہانہ ساڑھے چھ ارب ڈالر کا نقصان ہورہاہے،مطالعاتی جائزہ

2011ء سے اب تک 275 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ،82لاکھ بچے بھی جنگ سے متاثرہوئے،رپورٹ

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء)ایک نئے مطالعاتی جائزے میں بتایا گیا ہے کہ شام میں جاری جنگ نے وہاں کی معیشت پر کتنے تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں۔ اس جائزے کے مطابق اس جنگ کے معاشی اثرات نے سب سے زیادہ وہاں کے بچوں کو متاثر کیا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق رواں ہفتے ایک مطالعاتی جائزے کے نتائج جاری کیے گئے ہیں، جس میں بتایا گیا ہے کہ پانچ برسوں سے جاری اس خونریز تنازعے میں پیداوار اور خدمات کے شعبے میں ہی ماہانہ ساڑھے چار ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

اس جائزے کو ’دی کاسٹ آف کنفلکٹ فار چلڈرن‘ (تنازعے سے بچوں کو پہنچنے والے نقصانات) کا عنوان دیا گیا ہے اور اسے بچوں کی بہبود کے لیے سرگرم ایک مسیحی ادارے ’ورلڈ وڑن انٹرنیشنل‘ نے مشاورتی ادارے ’فرنٹیئر اکنامکس‘ کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔اس جائزے کے مطابق 2011ء سے لے کر اب تک شام کو 275 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے اور اگر یہ جنگ 2020ء تک جاری رہی تو یہ نقصان بڑھ کر 1.3 ٹریلین ڈالر تک پہنچ جائے گا۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر یہ تنازعہ اسی سال ختم بھی ہو جاتا ہے، تب بھی اس ملک کو 448 ارب اور 689 ارب ڈالر کے درمیان معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزید یہ کہ شام میں امن قائم ہو جانے کے بعد بھی کھنڈر ہو چکی معیشت اور اقتصادی ڈھانچے کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کئی برس درکار ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق شام کو اپنی فی کس مجموعی آمدنی میں ہونے والی کمی کو پورا کرنے کے لیے دَس تا پندرہ سال کا عرصہ درکار ہو گا۔

اس خانہ جنگی کی وجہ سے شام کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 19:02:36 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان