سینٹ قائمہ کمیٹی سائنس وٹیکنالوجی کا اجلاس، نیشنل یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 18:00:57 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:53:45 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:46:27 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:42:58 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:38:39 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:36:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:32:01 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:32:01 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:21:57 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:11:42 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:11:42
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

سینٹ قائمہ کمیٹی سائنس وٹیکنالوجی کا اجلاس، نیشنل یونیورسٹی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 1997ء ایکٹ میں ترمیمی بل 2016ء متفقہ طور پر منظور

بل کے تحت سینٹ کا مستقبل میں ریکٹر انجینئرنگ سے شعبے ہوگا , پی ایس ڈی پی آئندہ سال سات پروجیکٹ مکمل کرے گی، باقی پندرہ میں کام جاری ہے جو آئندہ سال تک مکمل ہوجائینگے ،کمیٹی کو بریفنگ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا اجلاس پیر کے روز سینیٹر عثمان سیف اللہ خان کی صدارت میں ہوا جس میں کمیٹی نے متفقہ طور پر نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے 1997ء ایکٹ میں ترمیم کرکے بل 2016ء کو منظور کرلیا بل کے تحت سینٹ کا مستقبل میں ریکٹر انجینئرنگ سے شعبے ہوگا کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا گیاکہ پاکستا ن میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پر بہت کم پیسہ 0.29 فیصد خرچ کیا جاتا ہے جبکہ اسرائیل میں 4.21فیصد اور بھارت میں جی ڈی پی کا 0.82فیصد خرچ کیا جاتا ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ پی ایس ڈی پی آئندہ سال سات پروجیکٹ مکمل کرے گی اور باقی پندرہ میں کام جاری ہے جو آئندہ سال تک مکمل ہوجائینگے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پارک کیلئے ایک بلین درکار ہیں جس پر چیئرمین کمیٹی اسامہ سیف الل نے کہا کہ پہلے ہی حکومت کے پاس پیسے نہیں ہیں اور یونیورسٹیوں میں کافی جگہ موجود ہے جس کیلئے نئی جگہ لینے کی کیا ضرورت ہے جی ایس ڈی پی کے منصوبوں کے حوالے سے چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمارا غریب ملک ہے جہاں ایک منصوبہ ایک ملین سے شروع ہوتا ہے اور پچاس ملین پر اختتام پذیر ہوتا ہے خدا کیلئے عوام کے پیسے کو ضائع نہ کیاجائے بلکہ اس کا صحیح استعمال کیا جائے ۔

ایک منصوبہ مکمل کیا جائے پھر دوسرا شروع کیا جائے جس پر وزیر مملکت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے بتایا کہ ہمیں شرم آتی ہے کہ ہم جو پیسے پراجیکٹ کیلئے مانگتے ہیں اس سے آدھ پیسے ملتے ہیں جس کی وجہ سے پراجیکٹ کے کام میں سستی پیدا ہوجاتی ہے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ کے حوالے سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارت نے پی ایس ٹی ٹیسٹ کے ذریعے تقریباً دو سو سے لیکر تین سو طالبعلم جو ابھی 9ویں کلاس میں پڑھتے ہیں کو سلیکٹ کیا ہے جن کو ماہانہ دس ہزار روپے تک کا سکالر شپ دی جارہی ہے کمیٹی نے کہا کہ ہمیں بتایا جائے کہ طالبعلموں کو سلیکٹ کرنے کا پراسیس کیا تھا اور سلیکٹ طالبعلموں کا تعلق کہاں سے کن علاقوں سے ہے جس پر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ وہ ٹیسٹ کی کاپی آئندہ اجلاس میں پیش کرینگے کمیٹی نے کامسیٹس حکام سے کہا کہ دو ہزار بارہ سے لیکر اب تک انٹرنیور پروگرام کی مد میں تقریباً پندرہ ارب روپے کا میٹس اور تقریباً

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 17:36:52 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان