لداخ کے علاقے میں دراندازی کے بار بار الزامات کے بعد، لائن آف کنٹرول پر پاکستان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 17:09:41 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:58:06 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:58:06 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:56:54 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:56:54 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:55:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:55:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:55:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:54:13 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:53:41 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:51:11
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لداخ کے علاقے میں دراندازی کے بار بار الزامات کے بعد، لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی اگلی چوکیوں پر چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکاروں کی موجودگی نے ہندوستان کے سیکیورٹی حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجادیں

نئی دہلی(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14مارچ۔2016ء) لداخ کے علاقے میں دراندازی کے بار بار الزامات کے بعد، لائن آف کنٹرول پر پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی اگلی چوکیوں پر چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے اہلکاروں کی موجودگی نے ہندوستان کے سیکیورٹی حلقوں میں خطرے کی گھنٹیاں بجادیںپریس ٹرسٹ آف انڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ہندوستانی فوج نے شمالی کشمیر میں نوگام سیکٹر کی اگلی چوکیوں پر پیپلز لبریشن آرمی کے چند سینیئر افسران کو دیکھا، جن کے بارے میں پاکستانی فوجی افسران کا کہنا تھا کہ وہ لائن آف کنٹرول کے ساتھ کچھ انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لیے آئے ہیںرپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اگرچہ فوج نے سرکاری طور پر اس حوالے سے خاموشی اختیار کررکھی ہے تاہم وہ لائن آف کنٹرول پر پی ایل اے فورسز کی مبینہ موجودگی کے حوالے سے مختلف انٹیلی جنس ایجنسیوں کو مستقل اپ ڈیٹ کر رہی ہے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق چینی فوج کو پہلی مرتبہ گذشتہ سال کے آخر میں دیکھا گیا تھا اور اس کے بعد سے انھیں تنگدھار سیکٹر پر بھی دیکھا جاچکا ہے. یہ وہ علاقہ ہے جہاں چینی حکومت کی ملکیت گزوہوبا گروپ کمپنی لمیٹڈ 970 میگاواٹ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 16:55:15 :وقت اشاعت