پاکستانی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف حاصل کر لیے
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:27:34 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:27:34 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:26:27 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:26:27 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:26:27 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:24:45 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:24:42 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:22:02 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:19:25 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:01:01 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 16:01:01
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

پاکستانی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف حاصل کر لیے

معیشت کے منصوبہ سازوں کی پوری توجہ بقایا جات کی ادائیگیوں اور مالی خسارے پر ہے ۔ٹیکس وصولی بہتر، اخراجات کنٹرول ، مہنگائی کی شرح بھی کم رہی ۔ , حکومت نے معیشت کے ارتقاء کیلئے اقتصادی راہداری منصوبے سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ کر لیں ہیں، معیشت میں بنیادی اصلاحات نہ لائی گئیں تو اقتصادی راہداری منصوبہ بھی بہترین کارکردگی نہیں دکھا سکے گا،آئی پی آر رپورٹ

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء) تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار پالیسی ریفارمز نے پاکستان کی معیشت کے بارے میں ششماہی رپورٹ برائے جولائی ۔دسمبر 2015-16 جاری کر دی ہے ۔جس کے مطابق پاکستانی معیشت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اپنے اہداف حاصل کر لیے ہیں تاہم یہ ابھی اپنے اصل ہدف سے کافی پیچھے ہے، رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معیشت کے منصوبہ سازوں کی پوری توجہ بقایا جات کی ادائیگیوں اور مالی خسارے پر ہے ۔

صوبوں کے سرپلس ہونے کے باوجود جولائی ۔دسمبر2015-16میں تجارتی خسارہ 1.7فیصد تھا جو کہ سال کیلئے اپنے ہدف کے اند ر ہی رہا ۔ٹیکس وصولی بہتر رہی اور اخراجات بھی کنٹرول رہے نیز مہنگائی کی شرح بھی کم رہی ۔آئی پی آر رپورٹ کے مطابق سالانہ ہدف چھ فیصد کے مقابلے میں، گروتھ کی شرخ کم رہی ۔ بڑے پیمانے کی مینو فیکچرنگ3.9فیصد رہی۔ جہاں تک زراعت کا تعلق ہے کپاس اور چاول جیسی دو اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی آئی ۔

اگرچہ گنے کی پیدوار پچھلے سال کی نسبت اچھی تھی لیکن اس نے بھی 68ملین ٹن سے اپنا ہدف مس کر دیا ۔ جہاں تک سرمایہ کاری کا تعلق ہے حکومت اس میں بھی اپنا دیا گیا ہدف پورا نہیں کر سکی ۔یہ کریڈٹ پرائیویٹ سیکٹر کو جاتا ہے جہاں پر مشینری کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے لیکن یہاں بھی یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سرمایہ کاری کو دوام بخشنے کیلئے کافی ہے ۔

بجلی کی پیداوار جس میں جولائی سے دسمبر تک درمیانہ درجے کا اضافہ ہو رہا تھا ملک کی معاشی سرگرمیوں پر اثر انداز ہو رہا ہے ۔آئی پی آر رپورٹ کے مطابق بقایاجات کی ادائیگیاں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/03/2016 - 16:24:45 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان