وزیراعظم کو تحفظ حقوق نسواں قانون پراپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے:مولانا فضل الرحمان
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 15:07:09 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 15:06:26 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 15:00:17 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:59:48 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:49:59 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:49:59 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:49:04 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:49:04 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:49:04 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:45:02 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:45:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

وزیراعظم کو تحفظ حقوق نسواں قانون پراپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے:مولانا فضل الرحمان

لاہور(ا ردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔14مارچ۔2016ء)جمعیت علمائے اسلام (ف)کے امیرمولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو تحفظ حقوق نسواں قانون پراپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے جس پروزیراعظم نے اقدامات کرنے کا وعدہ کیا ہے۔جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی دعوت پران سے ملاقات اور تحفظ حقوق نسواں بل پر بات چیت کی ہے۔

وزیراعظم نے بتایا وزیراعلیٰ پنجاب نے علما کے تحفظات دورکرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ وزیر اعظم سے ملاقات میں تحفظ حقوق نسواں بل پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، بل کا جو نکتہ آئین، قانون اور شریعت کے خلاف ہے حکومت اس میں ترمیم کرنے کے لئے تیار ہے۔انہوںنے کہا کہ جاتی عمرہ رائے ونڈ میں ہونے والی اس ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف اور دیگر بھی موجود تھے۔

ملاقات میں تحفظ خواتین ایکٹ اور دیگر ملکی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم نواز شریف کو تحفظ نسواں بل پر تحفظات سے آگاہ کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا پاکستان کو دہشتگردوں سے پاک کر کے دم لیں گے اور دہشتگردی کے خلاف پوری قوم متحد ہے۔ تحفظ خواتین ایکٹ پر مذہبی جماعتوں کے تحفظات کو بھی دور کیا جائے گا۔

اس موقع پر وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان کو ترمیم کی یقین دہانی کروائی۔ مولانا فضل الرحمان نے تمام دینی جماعتوں کا اجتماع 15 مارچ کو طلب کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے پر وزیراعظم کے علاوہ اور کسی سے بات نہیں کریں گے۔ واضح رہے اس سے قبل وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف بھی مولانا فضل الرحمان سے فون پر رابطہ کر کے خواتین ایکٹ بارے مشاورتی کمیٹی قائم کر چکے ہیں۔

یادرہے کہ حکومت پنجاب پہلے ہی بل میں ترمیم کا عندیہ دے چکی ہے وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ خلاف شرع کوئی قانون سازی نہیں کی گئی۔پنجاب حکومت دینی جماعتوں کے تحفظات دور کرنے کو تیار ہے،ضرورت پڑی تو ایکٹ میں مناسب ترامیم بھی کی جاسکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ دینی جماعتوں سے مذاکرات کیلئے وزیر قانون پنجاب رانا ثناءاللہ کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی ہے جو تمام اعتراضات کے حوالے سے اپنی رپورٹ وزیراعلٰی پنجاب کو پیش کرے گی۔

جے یو آئی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی سے پاس کردہ حقوق نسواں ایکٹ خاندانی نظام کو تباہ کرنے کی ایک سازش ہے،تمام دینی جماعتوں کو اس ایکٹ پر تحفظات ہیں اور وہ اس ایکٹ کی واپسی کیلئے تحریک چلانے پر متفق ہیں،پنجاب حکو مت کو قانون سازی سے قبل تمام دینی جماعتوں اور اسلامی نظریاتی کونسل کو اعتماد میں لینا چاہیئے تھا،حکومت اس ایکٹ کی فوری منسوخی کا اعلان کرے۔وزیرقانون پنجاب نے پیرکے روزصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب جلد بل میں ترمیم لارہی ہے-

14/03/2016 - 14:49:59 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان