اہل تشیع کے دفاع کے لیے کہیں بھی جا سکتے ہیں:ایرا نی صدر
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:24:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:24:15 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:23:13 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:23:13 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 14:11:51 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:54:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:54:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:51:45 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:51:45 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:51:45 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:49:57
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اہل تشیع کے دفاع کے لیے کہیں بھی جا سکتے ہیں:ایرا نی صدر

’اہل بیت کے مزارات سرخ لکیر ہیں ان کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا، حسن روحانی کا تقریب سے خطاب

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء)ایران کے اصلاح پسند صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ اہل تشیع کو جہاں کہیں بھی دہشت گردوں سے خطرہ ہوا تو ایران ان کے دفاع کو ضروری پہنچے گا۔ان کا کہنا تھا ایران اہل تشیع کے دفاع کے لیے کسی بھی مقام پر مداخلت کر سکتا ہے۔ایرانی صدر نے یہ بات ایک ایسے وقت میں کہی ہے جب تہران پہلے ہی شام، عراق اور کئی دوسرے عرب ممالک میں کھلم کھلا مداخلت کا مرتکب ہے۔

ان تمام ملکوں میں ایرانی مداخلت کے پس پردہ اہل تشیع کے مفادات کا تحفظ بتایا جاتا ہے۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر حسن روحانی نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اہل بیت کے مزارات سرخ لکیر ہیں۔ ان کا ہرممکن تحفظ کیا جائے گا“۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہشت گرد اہل بیت کے مزارات کو نقصان پہنچانے کے ساتھ اہل تشیع کے لیے خطرہ بنیں گے تو ہم وہاں مداخلت ضرور کریں گے۔

ہم اہل تشیع پر ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ ہمیں حکم ہے کہ اگر ہمارے مسلمان بھائی ظلم کا شکار ہوں اور اہل بیت کے مراقد کو خطرات لاحق ہوں تو ان کے دفاع کے لیے وہاں ضرور پہنچیں۔ایرانی صدر کا بیان درپردہ عرب ممالک میں مداخلت کا اشارہ ہے۔ اس نوعیت کے بیانات ایرانی لیڈروں کی جانب سے اکثر سامنے آتے رہتے ہیں۔ ایران کی مدد سے اس وقت شامی صدر بشارالاسد اپنی عوام کا وحشیانہ قتل عام کررہا ہے۔ ایران اہل تشیع دفاع کی آڑ میں شام میں مداخلت کا مرتکب ہے ۔

14/03/2016 - 13:54:52 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان