چانسلر آنگیلا میرکل کی جماعت کو تین ریاستوں میں سے دو میں ہونے والے علاقائی انتخابات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
پیر مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:13:24 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:13:23 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:13:23 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:01:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:01:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:01:52 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:01:12 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 13:01:12 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 11:42:28 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 11:42:28 وقت اشاعت: 14/03/2016 - 11:30:32
پچھلی خبریں - مزید خبریں

چانسلر آنگیلا میرکل کی جماعت کو تین ریاستوں میں سے دو میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں شکست کا سامنا

برلن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔14 مارچ۔2016ء)انتخابی جائزوں کے مطابق جرمن چانسلر آنگیلا میرکل کی جماعت کو ملک کی تین ریاستوں میں سے دو میں ہونے والے علاقائی انتخابات میں شکست کا سامنا ہے۔ایگزٹ پولز کے مطابق کرسچین ڈیموکریٹ پارٹی ملک کے مشرقی علاقے سیکسنی اینہالٹ میں سب سے بڑی جماعت کی حیثیت برقرار رکھ پائی ہے تاہم اسے باڈن ورٹمبرگ اور رائن لینڈ پالیٹینیٹ میں شکست ہوئی ۔

مہاجرین کی آمد کی مخالف جماعت آلٹرنیٹیو فار جرمنی(اے ایف ڈی) ان انتخابات میں تینوں ریاستوں میں ماضی کے مقابلے میں کامیاب رہی ہے۔انتخابات کو چانسلر انگیلا میرکل کی مہاجرین کے بارے میں اوپن ڈور پالیسی کا امتحان قرار دیا جا رہا تھا ‘2015 میں جرمنی میں دس لاکھ سے زیادہ مہاجرین اور پناہ گزین داخل ہوئے ۔جائزوں کے مطابق اے ایف ڈی کو سیکسنی کے علاقے میں 19 فیصد حمایت حاصل ہے جہاں اس وقت سی ڈی یو اور سوشل ڈیموکریٹوں کی اتحادی حکومت قائم ہے ‘اگر اے ایف ڈی نے انتخابات میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو اتحادیوں کو اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے ایک اور اتحادی کی ضرورت پڑیگی۔

اے ایف ڈی کو جرمنی کی 16 علاقائی پارلیمانوں میں پہلے ہی سے پانچ میں نمائندگی حاصل ہے ‘حالیہ انتخابات انھوں نے نعرے پر لڑے ہیں کہ سرحدوں کو محفوظ بنا دواورپناہ دینے کا ہنگامہ بند کرو۔حکمران جماعت سی ڈی یو کو ملک کی مغربی ریاست باڈن ورٹیمبرگ میں ماضی میں سب سے بڑی جماعت رہی تاہم اس بار عوامی جائزے کے مطابق جماعت کی حمایت میں 27 فیصد کمی دیکھی گئی ۔

14/03/2016 - 13:01:52 :وقت اشاعت