گلبدین حکمت یار کی سربراہی میں حزب اسلامی کا افغان حکومت کیساتھ براہ راست مذاکرات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
اتوار مارچ

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 13/03/2016 - 16:35:19 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 16:16:23 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 16:16:23 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 16:15:34 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 16:15:34 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 16:04:18 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 15:58:52 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 15:58:52 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 15:58:51 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 15:57:50 وقت اشاعت: 13/03/2016 - 15:57:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

گلبدین حکمت یار کی سربراہی میں حزب اسلامی کا افغان حکومت کیساتھ براہ راست مذاکرات میں شمولیت کا فیصلہ

شوریٰ کے امیر قاضی عبد الحکیم حکیم اور حزب اسلامی کے سیاسی امور کے سربراہ ڈاکٹر غیرت بہیرپر مشتمل دو رکنی ٹیم تشکیل , طالبان کو مذاکرات کی میزپر لانے کیلئے طالبان سے رابطے جاری ہیں ذرائع , جب تک اعتماد کی بحالی کیلئے افغان حکومت اور امریکہ اقدامات نہیں اٹھاتے اس وقت مذاکرات میں حصہ نہیں لینگے طالبان

کابل (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء) افغانستان کے سابق وزیر اعظم گلبدین حکمت یار کی سربراہی میں حزب اسلامی نے افغان حکومت کیساتھ براہ راست مذاکرات میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے ۔ حزب اسلامی کے رہنماؤں نے ”اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء “کو بتایا کہ گل بدین حکمت یار نے پارٹی کو مذاکرات میں حصہ لینے کی اجازت دیدی ہے ۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کیلئے دو رکنی ٹیم کا بھی فیصلہ کیا گیا جس میں حزب کے مرکزی شوریٰ کے امیر قاضی عبد الحکیم حکیم اور حزب اسلامی کے سیاسی امور کے سربراہ ڈاکٹر غیرت بہیر بھی شامل ہیں ۔یاد رہے کہ طالبان نے مذاکرات میں شمولیت سے انکار کیا ہے چار ممالک افغانستان  پاکستان  چین اور امریکہ کی جانب سے طالبان  حزب اسلامی اور دیگر گروپوں کوافغانستان حکومت سے ساتھ مذاکرات میں شرکت کیلئے کہا تھا جو مارچ کے پہلے ہفتے ہونے تھے لیکن طالبان کے انکار کے بعد یہ مذاکرات ملتوی کر دی گئے تھے ۔

”اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 مارچ۔2016ء “کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میزپر لانے کیلئے طالبان سے رابطے جاری ہیں اس سے چین اور پاکستان نے قطر میں طالبان کے دفتر سے رابطہ بھی کیا تھا تاہم رابطوں کے باوجود طالبان مذاکرات سے انکاری ہیں طالبان رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک اعتماد کی بحالی کیلئے افغان حکومت اور امریکہ اقدامات نہیں اٹھاتے اس وقت وہ مذاکرات میں حصہ نہیں لینگے طالبان نے قطر میں سیاسی دفتر کو دوبارہ کھولنے  مرکزی رہنماؤں پر بین الاقوامی پابندیاں ختم کر نے اور قیدیوں کی رہائی کے مطالبے پیش کئے ہیں افغان حکومت نے پیشگی شرائط کی مخالفت کی ہے ۔

مبصرین کا خیا ل ہے کہ حزب اسلامی کی مذاکرات میں باضابطہ طورپر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/03/2016 - 16:04:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان