پیرس بد ترین دہشت گردی کی زد میں آ گیا ، 160 افراد ہلاک ، 8 حملہ آور بھی مارے گئے، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
ہفتہ نومبر

پیرس بد ترین دہشت گردی کی زد میں آ گیا ، 160 افراد ہلاک ، 8 حملہ آور بھی مارے گئے، ایمرجنسی نافذ کر دی گئی

پیرس (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار. 14 نومبر 2015ء): فرانس کے دارالحکومت پیرس میں چھ مقامات پر ہونے والے پرتشدد حملوں میں کم سے کم 160 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہو گئے ہیں۔فرانس کے صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کر کے سرحدیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیرس کے بٹا کلان تھیٹر میں یرغمال بنائے جانے والے افراد میں سے کم سے 80 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خبر رساں ادارے کے مطابق 200 زخمیوں میں سے 80 کی حالت تشویشناک ہے۔فرانس میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پیرس کے فٹ بال سٹیڈیم، کانسرٹ تھیٹر اور ریسٹورنٹ سمیت چھ مختلف علاقوں میں مسلح افراد نے حملے کیے جن میں مبینہ خود کش دھماکے شامل ہیں۔فرانس کے صدر نے پیرس میں ہونے والے حملوں کے بعد عوام سے خطاب میں کہا کہ شہر میں فوج طلب کر لی گئی ہے اور ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر کے فرانس کی سرحد کو سیل کر دیا گیا ہے۔

پیرس شہر میں کم سے کم 1500 فوجی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اب تک آٹھ حملہ آوروں کو ہلاک کردیا گیاہے تاہم ان کی اصل تعداد اس سے زیادہ ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ پولیس کے مطابق بٹاکلان کانسرٹ ہال میں چار حملہ آور مارے گئے جن میں سے تین نے خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔تاحال ان حملوں کے مقاصد ظاہر نہیں ہوئے ہیں تاہم ایک عینی شاہد کے مطابق ایک حملہ آور نے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ حمایت ظاہر کی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایک شخص چلا رہا تھا کہ یہ سب فرانسو اولاند کی غلطی ہے، انہیں شام میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تھی۔فرانس مغربی ممالک کے اتحاد میں شام ہے جو شام میں دولتِ اسلامیہ

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

14/11/2015 - 10:45:29 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان