ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اختیارات نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے،براہمداغ بگٹی
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:23:10 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:46 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:46 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:46 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:32 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:06 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:06 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:20:06 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:18:54 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:18:54 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 23:15:08
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اختیارات نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے،براہمداغ بگٹی

بی آر پی قومی سیاسی اور جمہوری جماعت ہے جو پرامن اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور قوم کی نمائندگی کرتی ہے،صدر بلوچ ری پبلکن پارٹی

کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء)بلوچ قوم دوست رہنما اور بلوچ ری پبلکن پارٹی کے صدر نواب براہمداغ بگٹی کہا ہے کہ ڈاکٹر عبد المالک بلوچ نے اعتراف کیا ہے کہ انکے پاس اختیارات نہیں ہیں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بی آر پی ایک قومی سیاسی اور جمہوری جماعت ہے جو پرامن اور سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور قوم کی نمائندگی کرتی ہے۔

بی آر پی نے ہمیشہ بلوچ قومی مسئلے کو سیاسی اور پرامن طریقے سے حل کرنے کی جدوجہد کی اور کررہی ہے لیکن سکیورٹی اداروں اوراسٹیبلشمنٹ کی طرف سے بلوچ تحریک کو ہمیشہ بندوق کے زور پر ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔ انھوں نے حالیہ دنوں میں مزاکرات کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی تحریک میں جدوجہد کے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بلاخر مزاکرات اور بیٹھ کرہی مسائل کا نکالا جاتا ہے اور بحیثیت ایک قومی سیاسی جماعت بی آر پی کو یہ اختیار اور حق حاصل ہے کہ وہ قومی معاملات کو گفت و شنید اور پرامن انداز میں آگے لیکر چلے۔

انھوں نے کہا ڈاکٹر مالک کی طرف سے بارہا ملاقات کرنے کی درخواست گئی لیکن معاملات ان کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے ان سے ملنے سے انکار کرتے رہے اور حالیہ عرصے میں بھی ان سے ملاقات میں انہوں اعتراف کیا کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے اور وہ صرف پیغامات لیجانے کا کام کرہے ہیں۔ ملاقات میں ان پر واضع کیا گیا کہ جب تک بلوچستان میں ریاستی مظالم اور بلوچ قوم کے خلاف کاروئیوں کو روکا نہیں جاتا اس وقت تک مزاکرات کیلئے ماحول سازگار نہیں ہوسکتا۔

نواب براہمداغ بگٹی نے بتایا کہ موجودہ تحریک میں یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ریاست کی جانب سے مزاکرات کی بات جارہی ہو یا حکومتی نمائندگان کے ساتھ بلوچ تحریک میں شامل رہنماوں نے ملاقات یا بات کی ہو۔ اس سے پہلے بھی پیپلز پارٹی کی دور حکومت میں اس وقت کے وزیرداخلہ رحمان ملک سے نوابزادہ حیربیار مری صاحب کی ملاقاتیں ہوتی رہیں اور ڈاکٹر اﷲ نظر کی طرف سے بھی بلوچستان کے موجودہ وزیراعلی کے ساتھ رابطہ کیا جاتا رہا۔

بی آر پی ان رہنماوں کی فیصلوں کا احترام کرتی ہے اور ان رابطوں کے ایجنڈوں سے لاعلم ہونے کے باوجود اس نیت سے ان اقدامات کی مخالفت نہیں کی گئی کہ حکومتی اہلکاروں سے ملاقات اور رابطوں میں قومی مفاد کو مدنظر رکھا گیا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ بلوچ تحریک میں موجود کچھ کمزوریوں اور غلطیوں سے بلوچ قوم کو آگاہ کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ شاید کچھ باتیں ایسی ہیں کہ جن کو ظاہر کرنے سے دشمن کو فائدہ ہو لیکن ان کے ظاہر نہ کرنے سے بلوچ قوم کو اس سے کئی گناہ زیادہ نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ڈاڈائے قوم شہیدنواب اکبر بگٹی اپنے زندگی میں ہمیشہ یہ کوشش کرتے رہے کہ بلوچ قوم کو ایک متحدہ پلیٹ فارم یا سنگل پارٹی کے ذریعے متحد کیا جائے اور اس کی طاقت پارٹیوں اور تنظیموں میں بٹنے کی بجائے ان میں یکجہتی کو پروان چھڑایا جائے۔

شہیداعظم کی شہادت کے بعد تمام دوستوں کی کوششوں کے نتیجے میں بلوچ نیشنل فرنٹ کی بنیاد رکھی گئی جس میں تمام آزادی پسند بلوچ جماعتیں اکھٹی ہوئیں۔ اس اتحاد کا مقصد بلوچستان میں ریاستی مظالم اور آپریشن کے خلاف آواز بلند کرنا اور بلوچ قومی آجوئی کی جدوجہد کو متفقہ حکمت عملی کے ذریعے آگے بڑھانا تھا۔ اس وقت متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ مذکورہ مقاصد کے علاوہ تمام معاملات اور اظہار رائے کیلئے متعلقہ رہنما یا جماعت اپنے ذاتی حیثیت یا انفرادی جماعت کے پلیٹ فارم کو استعمال کریں گے۔

بدقسمتی سے بی ایس او آزاد کے کچھ دوستوں کی طرف سے پہلی بار اس فیصلے کی خلاف ورزی کی گئی اور بی این ایف کے پلیٹ فارم سے خلاف ایک اخباری بیان دیا گیا جو کہ بی این ایف کے قوائد کے خلاف تھا۔ بی آر پی کی جانب سے ان دوستوں سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اسے نہ دہرانے کی یقین دہانی کرائی لیکن کچھ دن گزرنے کے بعد ایک بار پھر اسی طرز کا ایک اور اخباری بیان جاری کیا گیا جس پر بی آر پی کی جانب سے دوستوں سے رابطے کرنے پر پتہ چلا کہ بی ایس او میں موجود کچھ لوگوں کی طرف سے بیان جاری کیا گیا ہے لیکن انکی قیادت نے معذرت کرکے ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرنے کاباور کروایا۔

ہم نے صبر و تحمل سے کام لیتے ہوئے دوستوں کو ایک اور موقع دیا کیونکہ اتنی بڑی تحریکوں میں اس طرح کے چھوٹے واقعات ہوتے رہتے ہیں لیکن یہ معاملات ابھی ختم نہیں ہوئے تھے کہ بی این ایف کی پلیٹ فارم سے ایک اور بیان جاری کیا گیا جس میں نوابزادہ حیربیار مری صاحب کو بلوچ قوم کا بین الاقوامی نمائندہ مقرر کرنے کا اعلان کیا گیا حالانکہ اس وقت بی این ایف کی قیادت بی آر پی کے پاس تھی لیکن ہمیں بیان جاری ہونے تک اس بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

البتہ اگر اتحاد میں شامل جماعتوں کی جانب سے باقائدہ اس بارے میں بیٹھ کر گفت و شنید کی جاتی تو کافی امکانات تھے کہ بی آر پی حیربیار صاحب کو بین الاقوامی نمائندہ تسلیم کرتی لیکن چونکہ یہ بیان مکمل طور پر بی این ایف کی ضوابط کی منافی تھی لہذا بی آر پی نے اس کی تردید کی اور تمام سطحوں پر اس کی مخالفت کی۔ بی آر پی کی مخالفت کرنے پر حیربیار مری صاحب بھی ہم سے ناراض ہوگئے حالانکہ ان کو بھی اس غیرسیاسی عمل اور اس میں ملوث عناصر کی کھل کر مخالفت کرنی چاہیئے تھی۔

ہم نے اتحاد میں موجود جماعتوں بی این ایم اور بی ایس او آزاد کے دوستوں سے اس غیرسیاسی عمل کو مسترد کرنے کی درخواست کی لیکن انکی طرف سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا حالانکہ چھان بین کے بعد پتہ چلا کہ مذکورہ بیان سویڈن میں مقیم سمندر آسکانی کی جانب سے جاری کیا گیا ہے جس کا بی این ایف سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ اتحاد میں شامل جماعتوں اوردوستوں کی ان غیرسیاسی اور غیرسنجیدہ رویوں سے مجبور ہوکر بی آر پی نے بی این ایف کے تمام عہدوں سے استعفی دیکر علیحدگی کا اعلان کردیا حالانکہ یہ وہ اتحاد تھا جسکی بنیاد رکھنے کے وقت یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ اس کو آگے چل کر قومی سنگل پارٹی کی شکل دی جائیگی لیکن یہ بھی دوستوں کی نا پختہ اور غیرسیاسی رویے کی نظر ہوگیا۔

کچھ لوگوں کی طرف سے بی آر پی پر بی این ایف کو توڑنے کا الزام لگاکر ہدف تنقید بنایا گیا لیکن آگے چل کر بی این ایم اور بی ایس او کے دوستوں نے بھی تسلیم کیا کہ اتحاد کو توڑنے میں کن عناصر کا کردار رہا۔ ان واقعات کے بعد بھی ریاست کی جانب سے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/11/2015 - 23:20:06 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان