پہلے ڈومورکی آوازیں باہر سے آ رہی تھیں اب ایسے مطالبات اندر سے بھی آنے لگے ہیں،اسفندیارولی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:09:22 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:09:22 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:09:22 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:08:10 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:08:10 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:08:10 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:07:27 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:05:19 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:03:22 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:03:22 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 21:02:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

پشاور

پہلے ڈومورکی آوازیں باہر سے آ رہی تھیں اب ایسے مطالبات اندر سے بھی آنے لگے ہیں،اسفندیارولی خان

دہشتگردی کیخلاف مشترکہ اقدامات نہ کئے گئے تو خطہ بدترین جنگ کی لپیٹ میں آجائیگا،کپتان حکومتی مک مکا ،یوٹرن کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں، تازہ مثال کیو ڈبلیو پی کو دوبارہ شریک اقتدار بناناہے،سربراہ عوامی نیشنل پارٹی

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء)عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے ملکی حالات کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’ ڈو مور ‘‘ کی آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں تاہم اب اس قسم کا مطالبہ ملک کے اندر سے بھی ہونے لگا ہے جو کہ اس جانب اشارہ ہے کہ پاکستان کو بیرونی چیلنجز کے علاوہ اندرونی عدم استحکام اور محاذ آرائی کا بھی سامنا ہے۔

شیخ کلے میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ملک کے سیاسی اور ریاستی حالات د گردوں ہیں اور اب تو حالت یہ ہے کہ ڈومور کی جو آوازیں پہلے باہر سے آرہی تھیں اب وہ ملک کے اندر سے بھی آنے لگی ہیں جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے کہا کہ پاکستان کے حالات اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک افغانستان میں استحکام اور امن نہیں آتا اور اس کے لیے لازمی ہے کہ دونوں ممالک اپنے اتحادیوں کے ہمراہ دہشتگردی کے خاتمے اور علاقائی مفاہمت کیلئے باہمی روابط اور اعتماد سازی پر فوری توجہ دیں ورنہ خطہ ایک بد ترین جنگ کی لپیٹ میں آ جائیگا جس سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان بھی بری طرح متاثر ہو گااور اس پس منظر میں فاٹا کے معاملات کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اے این پی کے سربراہ نے مزید کہا کہ پاکستان کے حالات د گردوں ہیں اور اصلاح احوال کی کوئی مستقل یا سنجیدہ صورت نظر نہیں آرہی اس کو سنگین نوعیت کے اندرونی اور بیرونی چیلینجز کا سامنا ہے تاہم بحرانوں سے نکلنے کے اقدامات نظر نہیں آ رہے۔ اُنہوں نے کہا کہ خطے کے حالات اور متوقع علاقائی خطرات سے نکلنے کیلئے ٹھوس سیاسی اور ریاستی پالیسیاں اور اقدامات ناگزیر ہیں اور اس کے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/11/2015 - 21:08:10 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان