شفاف ٹرائل کا حق دئیے بغیر میڈیا ٹرائل کی قانون میں اجازت نہیں تو فوڈ ڈیپارٹمنٹ ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:24:51 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:24:51 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:24:51 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:23:03 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:23:03 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:23:03 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:21:44 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:21:44 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:21:44 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:20:58 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:20:58
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

شفاف ٹرائل کا حق دئیے بغیر میڈیا ٹرائل کی قانون میں اجازت نہیں تو فوڈ ڈیپارٹمنٹ لوگوں کو کیوں بدنام کر رہا ہے‘ لاہور ہائیکورٹ

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) لاہور ہائیکورٹ نے ڈائریکٹر فوڈ پنجاب عائشہ ممتاز کی جانب سے ریسٹورنٹس اور بیکریوں پر مارے جانے والے چھاپوں کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ شفاف ٹرائل کے بغیر کاروباری افراد کو بدنام کر کے ملزم کیوں ٹھہرایا جا رہا ہے، فوڈ اتھارٹی کو سوشل میڈیا پر کسی کی شہرت داغدار کرنے کا اختیار کون سا ملکی قانون دیتا ہے ؟ ۔

گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی ۔ ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن کے وکیل پیر مسعود چشتی نے عدالت کو بتایا کہ قوانین کے تحت جب تک عدالت میں کسی کا جرم ثابت نہ ہو جائے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی جا سکتی ۔ لیکن ڈائریکٹر پنجاب فوڈ اتھارٹی عائشہ ممتاز فوڈ فیکٹریوں پر چھاپوں کے بعد کارروائی کو فیس بک پر جاری کر دیتی ہیں اور فیکٹریوں کو سیل

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/11/2015 - 16:23:03 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان