وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپوزیشن جماعتوں کو متفقہ ”چارٹر آف اکانومی“ کی تیاری ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:21:44 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:21:44 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:20:58 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:20:58 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:20:58 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:19:26 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:19:26 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:19:26 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 16:17:55 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:54:38 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:43:43
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:36 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:38 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:39 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 10:35:10 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 وقت اشاعت: 17/01/2017 - 11:10:41 اسلام آباد کی مزید خبریں

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپوزیشن جماعتوں کو متفقہ ”چارٹر آف اکانومی“ کی تیاری کیلئے مل بیٹھنے کی دعوت دیدی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) ایوان بالا میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپوزیشن جماعتوں کو متفقہ ”چارٹر آف اکانومی“ کی تیاری کے لئے مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معیشت کو سیاست بازی کا نشانہ نہ بنایا جائے‘ غلط اور منفی پراپیگنڈے سے ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے ‘ فی پاکستانی ایک لاکھ بیس ہزار مقروض ہونے کے اعداد و شمار کنٹینر سے دیئے گئے اس طرح کے غلط اعداد و شمار کا پراپیگنڈہ کرنے والوں کو شرم آنی چاہئے‘ گزشتہ تین سالوں کے دوران ملکی قرضوں میں تین کھرب کا اضافہ ہوا جبکہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور میں ملکی قرضے چھ کھرب روپے سے بڑھ کر 1590 کھرب تک پہنچائے گئے اس وقت ملکی قرضے 19کھرب کے لگ بھگ ہیں‘ پیپلز پارٹی کے دور میں بجٹ خسارہ 8.8 فیصد تھا جسے صرف دنوں میں 8.2فیصد کردیا اور اڑھائی سالوں میں اسے کم کرکے 5.2 فیصد پر لائے‘ آئندہ سال اسے مزید کم کرکے 4.2 پر لائیں گے‘ آئی ایم ایف سے اڑھائی سالوں میں 6.6 ارب ڈالر قرضہ لیا جس میں سے مشرف اور بی بی دور کے 4.6 ارب ڈالر قرضہ واپس کیا ۔

وہ جمعہ کو سینٹ میں شیری رحمان کے ملکی قرضوں بارے تحریک التواء کا جواب دے رہے تھے تحریک پر شیری رحمن سمیت تاج حیدر‘ نعمان وزیر اور سلیم مانڈوی والا نے بحث میں حصہ لیا۔ بحث سمیٹتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ میں نے ہر سال معاسی روڈ میپ دیا ہے میری تمام ارکان سے گزارش ہے کہ معیشت کی بحالی کے لئے سب سر جوڑ کر مل بیٹھیں اور کوئی حل تلاش کریں ہم نے پہلے سال 135 ارب روپے کے اخراجات کم کئے قرضوں کے حجم معیشت کے حجم کے حساب سے بڑھا ہے لیکن ہم قانونی پابندی کی 60 فیصد کے اندر رہے ہیں جب تک مالیاتی خسارے سے نہیں نکلیں گے تب تک فرق کم ہونے کے بجائے بڑھے گا 3.8 کھرب کے قرضے ہمارے دور میں لئے گئے حلف لینے کے چار دن کے اندر 32 اداروں کے خفیہ فنڈز ختم کئے پہلے سال خسارے کو 8.2 پر لائے اس سال 5.2 پر لائیں گے بعض عناصر منفی پرایپگنڈہ کررہے ہیں جس سے معیشت کو نقصان ہورہا ہے قومی چارٹر آف اکانومی کی ضرورت ہے کل بیرونی قرضے 65 ارب ڈالر ہیں شیری رحمن کے اعداد درست نہیں ہیں سیلز ٹیکس 18فیصد کرنے کے لئے آئی ایم ایف دباؤ ڈال رہا تھا جو قبول نہیں کیا میں نے ملکی مفاد میں ان سے اس ایشو پر لڑائی کی سب طے کریں کہ معیشت پر کوئی سیاست نہیں ہوگی۔

پندرہ ہزار 96 سو کھرب کا قرضہ جون 2013 میں تھا 1.9 بلین ڈالر ضرب عضب پر خرچ کئے 45 ملین ڈالر گزشتہ سال خرچ کئے

اور 100ملین ڈالر اس سال کے بجٹ میں رکھے ہیں۔ ملکی قرضے پیپلز پارٹی کے دور میں چھ کھرب سے پندرہ کھرب نوے ارب تک

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

13/11/2015 - 16:19:26 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان