شام میں امریکی ڈرون حملے میں مطلوب برطانوی جنگجو جہادی جان جان مارا گیا
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:18:08 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:18:08 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:03:31 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:03:31 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:03:31 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:02:24 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 15:02:24 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 14:50:03 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 14:50:03 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 14:49:04 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 14:49:04
پچھلی خبریں - مزید خبریں

شام میں امریکی ڈرون حملے میں مطلوب برطانوی جنگجو جہادی جان جان مارا گیا

دمشق(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء)شام میں امریکی ڈرون حملے میں مطلوب برطانوی جنگجو جہادی جان جان مارا گیا،کویتی نژاد برطانوی شہری ایموازی 2013 میں شام گیا اور بعد ازاں داعش کا اہم رکن بن گیا تھا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق جمعے کو جاری ہونے والے بیان میں امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کے پریس سیکریٹری پیٹر کک نے بتایا کہ برطانوی شدت پسند محمد ایموازی المعروف جہادی جان کو شام کے علاقے رقا میں اس وقت نشانہ بنایا گیاجب وہ ایک کا ر پر سوار تھے ۔

پینٹا گون کے مطابقامریکی فضائیہ نے جہادی جان کے نام سے معروف برطانوی شدت پسند محمد ایموازی کو شام میں نام نہاد دولت اسلامیہ کے دارالحکومت رقامیں نشانہ بنایا ہے۔تاہم حکام نے بتایا ہے کہ ابھی گزشتہ روز کی جانے والی اس کارروائی کے نتائج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اور جب بھی مناسب ہوا اضافی معلومات سے آگاہ کیا جائے گا۔مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ ایموازی ان ویڈیوز میں موجود تھے جن میں امریکی صحافی سٹیون سوتلوف اورجیمز فولی، برطانیہ امدادی کارکن ڈیوڈ ہینز اور ایلن ہیننگ، امریکی امدادی کارکن عبدالرحمن کیسگ اور بہت سے دیگر مغویوں کو ہلاک کیا گیا۔

محمد ایموازی کو پہلی بار گذشتہ برس اگست میں دولت اسلامیہ کی جانب سے جاری کی گئی اس ویڈیو میں دیکھا گیا تھا جس میں امریکی صحافی جیمز فولی کا سر قلم کرتے دکھایا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ متعدد افراد کی ہلاکتوں کی ویڈیوز میں نظر آئے۔ان تمام ویڈیوز میں وہ سیاہ عبا پہنے دکھائی دیے تھے جبکہ ان کے چہرے پر سیاہ نقاب تھا اور صرف ان کی ناک اور آنکھیں دکھائی دے رہی تھیں۔برطانوی لہجے میں انگریزی بولنے والے ایموازی نے ان ویڈیوز میں مغویوں کو بظاہر ہلاک کرنے سے قبل اپنی تقریر میں مغربی طاقتوں پر طنز کیا اور انھیں دھمکیاں بھی دی تھیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ محمد ایموازی سنہ 2006 میں صومالیہ گئے اور مبینہ طور پر ان کا تعلق شدت پسند تنظیم الشباب سے رہا ہے۔

13/11/2015 - 15:02:24 :وقت اشاعت