بھا رت ، ہندو انتہا پسند ’گائے‘ کی حمایت اور اس کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر میدان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعہ نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 13/11/2015 - 14:49:04 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 13:20:22 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 12:25:31 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 12:25:31 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 12:24:51 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 12:21:35 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 12:21:35 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 12:21:35 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 11:48:00 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 11:48:00 وقت اشاعت: 13/11/2015 - 11:41:02
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بھا رت ، ہندو انتہا پسند ’گائے‘ کی حمایت اور اس کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر میدان میں آگئے

بنگلورو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء)ہندوستان میں ہندو انتہا پسند اپنے مقدس جانور ’گائے‘ کی حمایت اور اس کے تحفظ کے لیے ایک بار پھر میدان میں آگئے ہیں اور اب یہ ’کاوٴ فوبیا‘ ان کے سروں پر اس حد تک سوار ہوچکا ہے کہ انہوں نے چمڑے سے بنے جوتے فروخت کرنے والوں کو بھی ڈرانا دھمکانا شروع کردیا۔ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہندو انتہا پسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے کارکن اس بار چمڑے کے جوتے بیچنے والی آن لائن کمپنی ’مینترا‘ کے خلاف ہم آواز ہوگئے ہیں۔

انتہا پسند تنظیم کے ٹوئٹر اکاوٴنٹ کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ گائے کی کھال سے بنے جوتے بیچنے پر ’مینترا‘ کمپنی کے خلاف ایکشن لے، کیونکہ اس سے ہندووٴں کے مذہبی جذبات مجروح ہورہے ہیں۔اگرچہ یہ ٹوئٹر اکاوٴنٹ انتہا پسند تنظیم کا آفیشل اکاوٴنٹ نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اس کے فالوورز میں ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر خزانہ ارون جیٹلی، ریاست مہاراشٹرا، راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ کے وزرائے اعلیٰ دیونڈرا فیڈناوس، وسوندھرا راج، اناندیبن پٹیل، شیوراج سنگھ چوہان اور رمن سنگھ بھی شامل ہیں۔

ریاست کرناٹک کے آر ایس ایس کے میڈیا افیئرز کے انچارج راجیش پدمر نے کے ایک کارکن کی جانب سے اس ٹوئٹ کی توثیق کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ٹوئٹر اکاوٴنٹ سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس سے تنظیم کے آفیشل ٹوئٹر اکاوٴنٹ پر بھی ٹویٹس شیئر کی جاتی ہیں۔تنقید کا نشانہ بنائی جانی والی کمپنی ’مینترا‘ نے اس ٹوئٹ کے جواب میں کہا کہ جوتے بنانے کے لیے چمڑا مقامی مارکیٹوں سے نہیں بلکہ دیگر ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے، جو کسی طور پر بھی ملک کے قانون کے منافی نہیں۔

13/11/2015 - 12:21:35 :وقت اشاعت