لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی میرج پالیسی کو از سر نو ترتیب دینے اور پادریوں کومیرج لائسنس کے حصول کے لئے کم از کم میٹرک کی شرط عائد کئے جانے کے خلاف دائر درخواست نمٹادی.

Umer Jamshaid عمر جمشید جمعہ 13 نومبر 2015 11:58

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔13 نومبر۔2015ء) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس سید منصور علی شاہ نے کیس کی سماعت کی۔درخواست گزار بشپ ڈاکٹر جانثار آصف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ انگریز دور 1872میں بنایا گیا مسیحی میرج ایکٹ موجودہ دور سے مطابقت نہیں رکھتا۔میرج پالیسی کے مطابق پاکستان میں موجود تمام پادریوں کو میرج لائسنس کی پانچ سال بعد تجدید کرانا لازم ہے۔

(جاری ہے)

اس میرج ایکٹ کے مطابق میرج لائسنس کے لئے اپلائی کرنے والے پادری کے لئے دو سو سے زائد مسیحیوں سے تصدیق کرانا کم از کم تعلیمی اہلیت میٹرک مقرر کی گئی ہے جس کا اطلاق مسلم نکاح خواں پر نہیں کیا جاتا جو کہ مسیحی پادریوں سے امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔محکمہ ہیومن رائٹس کمیشن کے سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ اقلیتی مشاورتی کونسل کی منظوری سے تمام ترامیم کا جائزہ لیا گیا.انہوں نے مشاورتی کونسل کے اجلاس کی تحریری کاروائی کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کی.جس پر عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدلیہ انتظامی معاملات میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں رکھتیں,,,اگر کم از کم تعلیمی معیار اختیار کیا گیاہے تو اس پر اعتراض بلاجواز ہے.عدالت نے درخواست نمٹا دی.