چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت کمیٹی آف دی ہول کا اجلاس
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:08:09 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:06:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:06:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:06:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:04:42 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:04:42 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:04:42 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:03:12 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:03:12 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:03:12 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 23:01:20
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت کمیٹی آف دی ہول کا اجلاس

اسلام آباد ۔12 نومبر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء) اراکین سینٹ نے فاٹا میں اصلاحات اور انہیں قومی دھارے میں لانے کیلئے تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور نکتہ نظر کی روشنی میں سفارشات مرتب کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور پہلی مرتبہ پاکستان کی تاریخ میں فاٹا میں اصلاحات کیلئے بحث کے آغاز کو خوش آئند قرار دیا۔ ان خیالات کا اظہار ایوان بالا کے اراکین نے کمیٹی آف دی ہول کے اجلاس میں اپنی سفارشات پیش کرتے ہوئے کیا جو جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس میں چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں فاٹا کے حوالے سے بات ہو رہی ہے جس کا کریڈٹ چیئرمین سینٹ کو جاتا ہے۔ فاٹا کو سٹرٹیجک خطہ کہا جاتا ہے لیکن یہاں کے عوام کی سٹرٹیجک حیثیت کو اہمیت نہیں دی گئی۔ فاٹا میں تبدیلیاں اور اصلاحات وہاں کے عوام اور نمائندوں کے ذریعے ہونی چاہئیں اور آئین میں کوئی بھی ترمیم ان کے لئے قابل قبول ہونا ضروری ہے تاکہ اس پر عملدرآمد ہو سکے۔

تمام سٹیک ہولڈرز بھی سب سے زیادہ متعلقہ ہونے چاہئیں اور سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ سب سے بڑا فریق ہے۔ فاٹا کے لوگ جمہوریت پسند ہیں اور وہ اصلاحات چاہتے ہیں اور فاٹا اصلاحات کے حوالے سے ان کا بیان خوش آئند ہے۔ صحیح سمت میں چھوٹے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے، اور سب کیلئے قابل قبول سفارشات مرتب کرنے کی ضرورت ہے جو فاٹا کے عوام کی خواہشات کے بغیر ممکن نہیں اور آئین کے آرٹیکل 247-7 کو ختم کرنے کیلئے اور انہیں سپریم کورٹ میں جانے کیلئے ایک بل اس ایوان نے متفقہ منظور کر رکھا ہے جو قومی اسمبلی میں ابھی پیش نہیں ہوا ہے۔

فاٹا کے اندر بھی لوکل گورنمنٹ یا ایجنسی کونسل ہونی چاہئے۔ قبائلی بچے اور بچیاں تعلیم اور کھیل میں سب سے آگے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ سیفران کے وفاقی وزیر کی حیثیت سے جو تجاویز فرحت اللہ بابر نے پیش کیں ان پر ہم نے بہت سا کام کیا ہے۔ اس وقت ملٹری کی انٹری سے پہلے گورنر ہوتے تھے اور ایف سی آر کا قانون لاگو تھا، 7 قبائلی ایجنسیاں ہیں اور 6 ایف آر ہیں جہاں پولیٹیکل ایجنٹ قبائلی عمائدین اور مشران سے مدد کے ذریعے نظام چلاتا تھا اور رواج اور شریعت کی روشنی میں فیصلے ہوتے تھے۔

1948ء سے فوج کے آنے تک یہ نظام چل رہا تھا جس کے بعد کمانڈنٹ کی نگرانی میں وہ انتظام شیئر ہونے لگ گیا۔ قبائلی ملک اور مشر طالبان نے شہید کر دیئے اور جرگہ سسٹم بھی غیر فعال ہے۔ وفاقی وزیر نے ایوان کو مزید بتایا کہ عوامی نمائندوں کا ایف آر کے معاملات میں کسی قسم کا عمل دخل نہیں ہے۔ فاٹا اصلاحات کیلئے جو پیکیج پیش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں سب سے پہلا پیکیج قیام امن ہے، امن آنے کے بعد پولیٹیکل ایجنٹ اختیارات کے ساتھ واپس ہوں، آئی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی سب سے زیادہ اہم ہے۔

انفراسٹرکچر اور نظام حکومت کو دوبارہ بحال کرنا ہے۔ سیفران کی وزارت اور گورنر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی کمیٹی نے پارلیمنٹرین اور مشران سے بھی مختلف امور پر مشاورت کر رکھی ہے، پہلا ایف آر قوانین میں ترمیم ہو نظام ایسے ہی ہو، علیحدہ صوبہ، خصوصی حیثیت دی جائے جس طرح گلگت بلتستان کو دی گئی ہے، فوج سے بھی تجاویز شیئر کی گئی ہیں۔ ہم تجویز کر رہے ہیں کہ گلگت بلتستان والا نظام لاگو کیا جائے اور 10 سالہ ترقیاتی پروگرام چلایا جا ئے تاکہ انہیں دوسرے صوبوں کے برابر لایا جا سکے۔

40 ممبر آبادی کی بنیاد پر چلنے چاہئیں، خواتین کی نمائندگی بھی ہو ان میں سے ایک وزیراعلیٰ ہو اور کابینہ ہو اور گورنر کے اختیارات انہیں منتقل ہوں اور پھر قانون سازی کیلئے ادارے بنائے جائیں، کوئی انقلابی اقدامات نہیں، ایوولوشن کے تحت کام کر رہے ہیں اور ان کی پسند شامل ہوں جس کیلئے پریزنٹیشن تیار کر لی گئی ہیں۔ وزیراعظم نے جو کمیٹی تشکیل دی ہے وہ بھی اپنی آؤٹ پٹ ا یوان میں لا سکتی ہے۔

10 سالہ ترقیاتی پروگرام چلایا جائے، معدنی وسائل سے استفادہ کرنے اور پراسیسنگ مقامی سطح پر کرائی جائے، خام مواد باہر لیجانے کی اجازت نہ ہو تاکہ مقامی سطح پر روزگار مل سکے، ملازمتوں کا کوٹہ 2 فیصد ہے جسے بڑھا کر 4 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ منی مارشل ڈویلپمنٹ پلان کا کام میں نے دیا ہوا ہے۔ آرمی ایف ڈبلیو او اور ترقیاتی پارٹنرز ہونے چاہئیں، طلباء کا کوٹہ دوگنا کیا جائے، مقامی سطح پر سکل ٹریننگ، ملازمت کے مواقع دینے پر کام کرینگے۔

سالانہ 4 سے 5 ہزار ان بچوں کی تعداد ہو گی، ہر ضلع میں یونیورسٹی کی بات کی جاتی ہے وہاں بھی یونیورسٹی آ جائے تو بہتر ہو گا۔ کونسل کے قیام کیلئے ٹائم فریم واپسی کی کارروائی جون 2016ء تک نہیں ممکن ہو گی۔ جولائی 2016ء کے بعد امن و امان، بحالی پر کام شروع ہو گا۔ سینٹیر میر حاصل بزنجو نے فرحت اللہ بابر کی تجاویز سے اتفاق کیا۔ فاٹا کی صورتحال پاکستان کے تمام لوگ اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ ٹرائل ازم دنیا کا بدترین نظام ہے اور انگریز نے چند ملکان کے ذریعے ان علاقوں کو کنٹرول کیا پہلے اس بات کا فیصلہ کرنا ہو گا کہ فاٹا بھی ہمارا حصہ ہے۔

پھر بات آگے اصلاحات کی جانب بڑھ سکے گی۔ پورے فاٹا کو دیگر صوبوں کی طرح ون مین ون ووٹ کا حق ملنا چاہئے۔ حکومت جو بھی اصلاحات لائے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں شامل کئے جانے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے، وہاں کے عوام کا استحصال نہیں ہونا چاہئے۔ جرگہ کوئی مہذب نظام نہیں، سپریم کورٹ تک رسائی ملنی چاہئے۔ فاٹا کو جتنی جلدی ممکن ہو پراسیس کے ساتھ انہیں ریلیف دیا جائے ، انہیں ملک کا حصہ بنایا جائے، دہشت گرد طالبان سب آنا بند ہو جائیں گے۔

سینیٹر ہدایت اللہ نے کمیٹی آف ہول کا اجلاس بلانے پر چیئرمین سینٹ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قومی اسمبلی کے سپیکر کے اجلاس کے موقع پر ہمارے مطالبہ پر جو کمیٹی حکومت نے بنائی اس پر حکومت کے شکر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 23:04:42 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان