پاکستان کی تمام اکائیوں کے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے تجارتی تنازعات کے حل کیلئے ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 21:27:42 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 21:26:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 21:01:55 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 21:00:10 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:58:57 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:58:57 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:56:58 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:49:27 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:45:30 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:40:33 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:17:40
پچھلی خبریں - مزید خبریں

کوئٹہ

کوئٹہ شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

پاکستان کی تمام اکائیوں کے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے تجارتی تنازعات کے حل کیلئے قانون سازی بارے کام جاری ہے، مس روبیہ توفیق شاہ

کوئٹہ ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء )وزارت صنعت و تجارت پا کستان کی ڈائریکٹر جنرل مس روبیہ توفیق شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی تمام اکائیوں کے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کے اندرون و بیرون ملک تجارتی تنازعات کے حل کیلئے قانون سازی بارے ترجیحی بنیادوں پر کام جاری ہے قانون بنانے کیلئے میکنزم پر کام تیزی کیساتھ ہورہا ہے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز کو درپیش تمام تر مشکلات کے حل کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائیگا ہماری کوشش ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے تاجر کمیونٹی کے بیرون ملک تجارتی تنازعات کو جلد حل کیا جائے تاکہ ان کے اربوں روپے وصول کئے جاسکیں ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان اور ٹریڈ ڈسپیوٹ آرگنائزیشن وزارت صنعت و تجارت پاکستان کے اشتراک سے کوئٹہ چیمبر آف کامرس میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس سے قبل ایوان صنعت و تجارت کوئٹہ بلوچستان کے صدر جمال ترہ کئی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آج کے سیمینار کا مقصد بزنس کمیونٹی کے کاروباری مسائل کو حل کرنے بارے مستقل لائحہ عمل کی تیاری کیلئے بلوچستان کے تجارت سے وابستہ افراد کی تجاویز اور رائے لینا ہے چیمبر اپنے طور پر تو تجارت سے وابستہ افراد کے مسائل کے حل کیلئے بھرپور کوششوں میں مصروف ہے سمگلنگ کی روک تھام اور قانونی تجارت کا فروغ اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک چیمبر آف کامرس اور حکومت ایک پیج پر نہ ہوں بلوچستان کے بزنس کمیونٹی نے 10 ماہ کے دوران 7 ارب روپے کی خطیر رقم کا ٹیکس حکومتی خزانے میں جمع کیا ہے مگر یہاں انہیں کسی قسم کی سہولیات میسر نہیں صوبے کے بزنس کمیونٹی کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ انہیں ٹیکس ویلیو ایشن میں 30 فیصد رعایت دی جائے تاکہ وہ ٹیکس نیٹ میں شامل ہوں اور حکومتی ریونیو میں اضافہ ہو، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی جغرافیائی اہمیت سے کوئی انکارنہیں کرسکتا یہاں کے امپورٹرز اور ایکسپورٹرز ہمسایہ ممالک سمیت دنیا کے دیگر ممالک کیساتھ تجارتی روابط رکھے ہوئے ہیں مگر مختلف ممالک میں ان کو مشکلات اور مسائل کا سامنا ہے ایران سے رقوم کی لین دین میں مشکلات کے باعث بلوچستان کے تاجروں کے اربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ مالی بدحالی کا شکار ہیں جمال ترہ کئی نے تجویز پیش کی کہ منسٹری آف کامرس چیمبر کے منتخب افراد پر مشتمل کمیٹی بنائے جو دوسرے ممالک کے سفارت خانوں اور قونصل جنرل سے یہاں کی تجارت سے وابستہ افراد کے مسائل بارے گفت و شنید کرسکیں اس سے بزنس کمیونٹی کا وقت اور پیسہ دونوں بچیں گے، انہوں نے کہاکہ بلوچستان کی بزنس کمیونٹی نے ٹوٹل پارکو پاکستان لمیٹڈ کیساتھ پٹرولیم سیکٹر میں ایک ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے لیکن مگر اب مذکورہ کمپنی بلوچستان میں امن و امان کے مسئلے کا بہانہ کرکے یہاں کاروبار سے اجتناب کررہی ہے جس کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی رقم ڈوبنے کا خطرہ ہے منسٹری آف کامرس منسٹری آف پٹرولیم اینڈ نیچرل ریسورسز کیساتھ ملکر مسئلے کے حل بارے کردار ادا کریں، انہوں نے کہاکہ بلوچستان سے ایران چاول بھجوایا جارہا ہے مگر چاول کو لیبارٹری ٹیسٹ کے نام پر 6 ماہ تک رکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس تجارت سے وابستہ افراد کو مشکلات اور پریشانی کا سامنا ہے ،انہوں نے ٹرانسپورٹ مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ایران سے آنیوالی مال بردار گاڑیاں پاکستان میں کہیں بھی جاسکتی ہیں

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 20:58:57 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان