فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں تما م فریقین کو سنا جائے گا ، ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:49:27 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:47:40 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:47:39 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:45:30 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:45:30 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:44:20 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:44:20 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:44:20 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:42:35 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:42:35 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:42:35
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں تما م فریقین کو سنا جائے گا ، ماہرین سے رائے لی جائے گی، تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اراکین سینیٹ کی آراء کے ساتھ سفارشات مرتب کی جائیں گی،گلگت بلتستان کونسل کا قیام تو عمل میں آیا مگر اختیارات اس کے پاس نہیں رہے ، کونسل کے اختیارات کو محدود ہونے سے بچانے کیلئے حکمت عملی بھی واضح کی جائے،چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی کا پورے ایوان کی کمیٹی کے اجلاس سے خطاب

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء )چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے کہا ہے کہ فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں تما م اسٹیک ہولڈرز کو سنا جائے گا اور ماہرین سے رائے لی جائے گی، تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اراکین سینیٹ کی آراء کے ساتھ سفارشات مرتب کی جائیں گی، گلگت بلتستان کونسل کا قیام بھی عمل میں لایا گیا تھا تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ اختیارات گلگت بلتستان کونسل کے پاس نہیں رہے اور وزیراعلیٰ کے پاس بھی اختیارات بہت محدود ہو گئے ہیں جبکہ اگر فاٹا کے حوالے سے اگر کونسل کا قیام عمل میں لایا جاتا تو اس کے اختیارات کو محدود ہونے سے بچانے کیلئے دفاعی نقطہ نظر سے حکمت عملی بھی ساتھ میں واضح کی جائے ۔

سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ فاٹا کے حوالے سے بنائی جانے والی کمیٹی میں فاٹا کا ایک بھی نمائندہ نہیں ، فاٹا کے لیے کی جانے والی اصلاحات میں وہاں کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے ،پہلے بھی کمیٹیاں بنائیں مگر نتیجہ صفر ہے ،لیفٹیننٹ جنرل(ر) عبدالقادر بلوچ نے کہا کہ فاٹا کے عوامی نمائندے بے اختیار ہیں ،فاٹا کے حوالے سے 4تجاویز زیرغور ہیں ،سینیٹر حاصل خان بزنجو نے کہا کہ فاٹا کے ساتھ وہی ہو رہا ہے جو ماضی میں بلوچستان کے ساتھ ہوا ،گوری چمڑی والا چلا گیا مگراسکی جگہ کالی چمڑی والے انگریز نے لے لی ،سینیٹر ہدایت اﷲ نے کہا کہ فاٹامی طالبان کے نام پر بہت تباہی کی گئی ، ہمیں آئین پاکستان کے تحت حقوق دیے جائیں، سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ ایف سی آر کا نظام بدترین ہے ، فاٹا کے لوگ خیبر پختونخوا پولیس مین بھرتی نہیں ہو سکتے ، فاٹا کونسل کے قیام سے ہی وہاں کے مسائل حل ہونگے ،سینیٹر صالح شاہ نے تجویز دی کہ ہر ایجنسی سے پانچ سو عمائدین اور مشران قوم کو اسلام آبا د دعوت دی جائے اور ان کی رائے لی جائے انہوں نے کہا کہ قبائلی امن چاہتے ہیں اصلاحات پر بہت باتیں ہوئی ہیں لیکن عملی اقدامات نہیں ہوئے ۔

سینیٹر عثمان کاکٹر نے کہا کہ جب تک فاٹا میں بیرونی دخل اندازی نہیں تھی تو وہاں امن تھا اور جرائم کی شرح کم تھی لیکن جب ان کے حقوق سلب کیے گئے تو حالات بگڑ گئے اور جرائم میں بھی اضافہ ہوا،سینیٹر نعمان وزیر نے ایف سی آر کو ظالمانہ نظام قرار دیا اور کہا کہ فاٹا اس وقت دنیا کی نظروں میں ہے ، پورے ایوان کی کمیٹی نے فاٹا اصلاحات پر مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے 18ماہرین کو بھی مدعو کر لیا ۔

چیئرمین سینیٹ میاں رضاربانی نے جمعرات کو فاٹا میں قانون سازی ، انتظامی اور دیگر دوسرے اقدامات کے ذریعے فاٹاکے عوام کے آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے اقدامات کے حوالے سے سینیٹ کے پورے ایوان کی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام کو آئینی حقوق کی فراہمی کے سلسلے میں تما م اسٹیک ہولڈرز کو سنا جائے گا اور ماہرین سے رائے لی جائے گی جبکہ تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد اراکین سینیٹ کی آراء کے ساتھ سفارشات مرتب کی جائیں گی ۔

سینیٹ کے ایوان کو مکمل کمیٹی قرار دینے کی نئی روایت کے تحت اجلاس میں فاٹا میں قانونی و انتظامی اختیارات ، اقدامات ، تجاویز پر اراکین سینیٹ نے بحث میں بھرپور حصہ لیا سینیٹ میں فاٹا کے پارلیمانی لیڈر سینیٹرہدایت اﷲ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا کے عوام اور ممبران پارلیمنٹ قومی مفاد کو پہلی ترجیح دے کر ایک صدی تک بھی اصلاحات کا انتظار کر سکتے ہیں اور کہا کہ تین قابل عمل تجاویز میں سے رسم و رواج میں رہتے ہوئے آئین پاکستان کے تحت فاٹاکے عوام حقوق مانگ رہے ہیں فاٹا کو مکمل صوبہ قرار دے دیا جائے تو صوبے کے پاس اپنے ریونیو نہیں گلگت بلتستان کونسل کی طرح این ایف سی ایوارڈ کی طرف نظریں ہو گی بہتر یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں انظمام کر دیا جائے فاٹا کی موجود پوزیشن کو برقرار رکھتے ہوئے قانون ساز کونسل بنا دی جائے اور دس سال کیلئے صوبہ خصوصی پیکج کے ذریعے ترقیاتی کام کرائے قانون ساز کونسل زیادہ قابل عمل ہے بنیادی ڈھانچہ موجود ہے فاٹا سیکرٹریٹ موجود ہے عملہ اور محکمے موجود ہیں لیکن ان تجاویز پر عمل درآمد کیلئے زیادہ وقت درکار ہے اگر سپریم کورٹ اورہائی کورٹ کا دائر ہ کار فاٹا تک بڑھا دیا جائے تو 75 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے مقامی حکومت کے تصور کی مخالفت کی جائے گی لیکن فاٹا اصلاحات پر من وعن عمل درآمد کیلئے فاٹا کے عوام ہی اصل سٹیک ہولڈر ہیں ۔

سینیٹر ہدایت اﷲ نے کہا کہ سپیکر کے انتخاب کے موقع پر فاٹا ممبران کے مطالبے پر حکومت کی طرف سے قائم کی جانے والی فاٹا اصلاحات کمیٹی حکومت کا مثبت قدم ہے اور تجویز دی کہ اس کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اپوزیشن لیڈروں کو بھی شامل کیا جانے چاہیے ۔ سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ فاٹا کے بہت سے سٹیک ہولڈر ہیں اور مسائل بھی بہت زیادہ ہیں سابق صدر آصف علی زرداری نے 14 اگست2011 کو فاٹا اصلاحات کا اعلان رات12 بجے کرنا تھا لیکن عسکری اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے رات ساڑھے نو بجے درخواست کی گئی کہ اعلان روک دیا جائے حکومت چکرا کر رہی گئی کہ عمائدین ، ملکان ، مشران اور 11 سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بلوا گیا تھا وفاقی کی اکائیوں میں فاٹا پاکستان کا حصہ ہے لیکن سپریم کورٹ ہائی کورٹ کا دائر کار نہیں آئین کا حصہ تصور کرتے ہیں لیکن بنیادی حقوق دینے والوں کو اختیار نہیں پشاور ہائی کورٹ نے بھی مرکزی حکومت کو اس تضاد کے خاتمے کیلئے کہا تھا قابل عمل معاملات پر عسکری قیادت کو بھی اعتماد میں لینا پڑے گا اور کہا کہ کل کے آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں فاٹا اصلاحات پر عمل درآمد خوش آئند ہے سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہا کہ علیحدہ صوبہ یا موجودہ صوبے میں انضمام عوام پر چھوڑ دیا جائے آرٹیکل 247/7 کو ختم کرنے کیلئے قبائلی علاقوں تک سپریم کورٹ تک رسائی کا متفقہ بل سینیٹ سے پاس ہوا ہے لیکن بل ابھی تک قومی اسمبلی میں پڑاہوا ہے سابق صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف کو خط بھی

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 20:44:20 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان