رواں برس کے دوران کپاس کی پیداوار مقررہ ہدف سے 40لاکھ گانٹھیں کم رہنے کی پیشگوئی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:38:45 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:37:40 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:37:40 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:37:40 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:30:44 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 20:25:18 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 19:40:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 19:30:23 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 18:40:40 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:57:10 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:57:10
پچھلی خبریں - مزید خبریں

رواں برس کے دوران کپاس کی پیداوار مقررہ ہدف سے 40لاکھ گانٹھیں کم رہنے کی پیشگوئی ،درآمد پر چار سے پانچ ارب ڈالر خرچ کرنا ہونگے،مقررہ ہدف میں دوسری مرتبہ نظر ثانی کر کے اسے ایک کروڑ 14 لاکھ کر دیا گیا ،ہدف میں اب مزید کمی کی ضرورت نہیں پڑیگی‘پیداوار میں کمی کی ضرورت سے زیادہ باشیں ،کپاس کیلئے 40ہزار من بیج کی ضرورت ہوتی ہے صرف 22فیصد مہیا کر سکے ،کاٹن کمشنر ڈاکٹر خالد عبد اﷲ

لاہور/لندن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء) رواں برس کے دوران کپاس کی پیداوار مقررہ ہدف سے 40لاکھ گانٹھیں کم رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ،مقررہ ہدف میں دوسری مرتبہ نظر ثانی کر کے اسے ایک کروڑ 14 لاکھ کر دیا گیا ہے،حکومت کو ضروریات پوری کرنے کیلئے درآمد پر چار سے پانچ ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔برطانوی نشریاتی ادارے نے کپاس کی فصل کا تخمینہ لگانے والے سرکاری ادارے کے حوالے سے بتایاہے کہ پاکستان میں کپاس کی سالانہ کھپت ایک کروڑ 50 لاکھ گانٹھوں سے زیادہ ہے۔

ملک میں اس سال 40 سے 50 لاکھ گانٹھیں درآمد کرنا پڑیں گی جس کے لیے حکومت کو چار سے پانچ ارب ڈالر خرچ کرنا ہوں گے۔یہ اعدادوشمار کپاس کے تخمینے کے لیے قائم کردہ کمیٹی کے تیسرے اجلاس میں پیش کئے گئے ۔کپاس کے تخمینے کے اس سرکاری ادارے نے ابتدائی ہدف پر چند ہفتے پہلے ہی نظر ثانی کر کے اسے ڈیڑھ کروڑ سے کم کر کے ایک کروڑ 30 لاکھ گانٹھیں کر دیا تھا تاہم وزارت ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ہونے والے اس اجلاس میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کی روشنی میں اس ہدف پر ایک بار پھر نظر ثانی کر کے اسے ایک کروڑ 14 لاکھ کر دیا گیا ہے۔

حکومت پاکستان کے کاٹن کمشنر ڈاکٹر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 20:25:18 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان