چیئرمین سینیٹ کا این ایف سی ایوارڈ رپورٹ بارے بحث سمیٹنے کیلئے وزیر خزانہ کی ایوان ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:59:30 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:53:49 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:53:49 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:52:32 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:52:32 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:52:32 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:17:50 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:17:50 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:17:50 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:13:29 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:13:29
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

چیئرمین سینیٹ کا این ایف سی ایوارڈ رپورٹ بارے بحث سمیٹنے کیلئے وزیر خزانہ کی ایوان میں عدم موجودگی پر سخت اظہار برہمی، وزیر پٹرولیم کو پیغام وزیر خزانہ تک پہنچانے کی ہدایت، اپوزیشن جماعتوں کا وزیر خزانہ کی جگہ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کو سننے سے انکار،علامتی واک آؤٹ

سینیٹرز کا این ایف سی کو منصفانہ بنانے‘ چھوٹے صوبوں کا حصہ بڑھانے اور فاٹا کو ایوارڈ کا حصہ بنانے کا مطالبہ، این ایف سی ایوارڈ کے اجراء میں تاخیر پر حکومت پر شدید تنقید

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء)چیئرمین سینیٹ نے این ایف سی ایوارڈ کی پہلی ششماہی رپورٹ بارے بحث سمیٹنے کیلئے وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کی ایوان میں عدم موجودگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی کو ایوان اور چیئرمین کا غم و غصہ وزیر خزانہ تک پہنچانے کی ہدایت کر دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے وزیر خزانہ کی جگہ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل کو سننے سے انکار کر دیا اور علامتی واک آؤٹ کیا۔

قبل ازیں ارکان نے دوران بحث این ایف سی کو منصفانہ بنانے‘ چھوٹے صوبوں کا حصہ بڑھانے اور فاٹا کو ایوارڈ کا حصہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے این ایف سی ایوارڈ کے اجراء میں ہونے والی تاخیر پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ جمعرات کو این ایف سی ایوارڈ کی پہلی ششماہی رپورٹ پر بحث میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن ‘ حاصل بزنجو ‘ مشاہد حسین سید ‘ فرحت اﷲ بابر ‘ الیاس بلور ‘ شیریں رحمن ‘ جاوید عباسی ‘ سلیم مانڈوی والا ‘ سراج الحق ‘ عثمان کاکڑ ‘خالدہ پروین اور محسن لغاری نے حصہ لیا۔

بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ اتنے بڑے پیمانے پر آئین کی خلاف ورزی کی جا رہ یہے۔ اس کا کوئی اجلاس نہیں بلایا جارہا ہے۔ پوری دنیا میں این ایف سی کمیٹی و زیر اعظم یا وزیر خزانہ کے ماتحت نہیں ہوتی اگر اس طرح این ایف سی ایوارڈ رویہ رکھا گیا جائے گا تو محرومیاں بڑھیں گی۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہو گا۔

وفاق آئین پاکستان کے تحت چل رہا ہے مگر ادارے صحیح انداز میں کام کر رہے ہیں سینیٹر فرحت اﷲ بابر نے کہاکہ آئین کی رو سے صدر پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ این ایف سی ایوارڈ کے ممبران کی تقرری کرے۔ اگر پنجاب کے نجی ممبر کی نامزدگی نہیں آئی تو جلد منگوائی جائے وگرنہ دوسرے صوبوں میں تاثر جائیگا کہ پنجاب اس کی راہ رکاوٹ ہے۔ نیا این ایف سی ایک ایسے وقت میں آ رہا ہے جب پائیدار ترقی کے اہداف کو حاصل کرنے کیلئے پیش رفت ہو رہی ہے۔

این ایف سی ایوارڈ میں پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کرنے والے صوبوں کو زیادہ مراعات ملنی چاہئیں۔ سینیٹر الیاس بلور نے کہا کہ 2009ء میں این ایف سی ایوارڈ ہوا تھا اور جولائی 2015ء میں اس پر اجلاس بلانا چاہیے تھا مگر نہیں بلایا گیا۔ سینیٹر شیری رحمن نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ این ایف سی ایوار ڈکی منصفانہ تقسیم کو یقینی نائے۔

جب قو می بجٹ یا فنانس بل پاس ہوتا ہے تو اس وقت 4 صوبوں کے ٹیکس کے حوالے سے کوئی ریکارڈ نہیں دیا جاتا۔ سندھ نے صرف فنانس پالیسی بنائی ہے۔ معاشی ترقی کیلئے مگر دوسرے صوبوں نے اس پر کوئی کام نہیں کیا۔ ہماری جدوجہد نے انتہائی بہترین انداز میں این ایف سی ایوارڈ کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا۔ اس ملک میں اشرافیہ بھی اتنا ہی ٹیکس دیتے ہیں جتنا اس ملک کا غریب شہری دیتا ہے۔

سینٹر بیرسٹر جاوید عباسی نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کیلئے این ایف سی ایوار

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 17:52:32 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان