گڈ گورننس کی بات ایک سچے پاکستانی کی سوچ ہے ، کوئی سازش نہیں ،اس بات کو مثبت ہی ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید قومی خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:59:30 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:57:10 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:30:40 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:14:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:13:29 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 17:03:03 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:58:33 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:56:44 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:56:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:56:43 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 16:33:21
پچھلی خبریں - مزید خبریں

لاہور

گڈ گورننس کی بات ایک سچے پاکستانی کی سوچ ہے ، کوئی سازش نہیں ،اس بات کو مثبت ہی لیا جانا چاہیے ‘ رانا ثناء اللہ

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے ساتھ گڈ گورننس کی بات ایک سچے پاکستانی کی سوچ ہے ، اس کے پیچھے کوئی سازش نہیں اور نہ ہی تلاش کرنی چاہیے بلکہ اس بات کو مثبت ہی لیا جانا چاہیے موجودہ عسکری اور سیاستی قیادت کے مابین کوئی اختلافات نہیں ہیں ، گڈ گورننس کی گنجائش ضرور موجود ہے اور ہمیں خامیاں بہتر کرنے کی ضرورت ہے ،بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے انتخاب میں شفافیت کی پالیسی کو اپنایاجائیگا، عوام نے جنہیں سچا سمجھا انہیں کامیاب کرایا ،اپوزیشن کنٹینر پر ہی رہ گئی کہیں نظر نہیں آئی، اگر پی ٹی آئی کی کارکردگی یہی رہی تو وہ 2023تک دھاندلی کا رونا ہی روتے رہیں گے، ، اگر ریحام کی علیحدگی کالا جادو سے ہوئی تو بابا کا نام بتائیں ہم بھی بابا سے کہتے کہ عمران پر دم کردیں تاکہ ان کا عقل آجائے،سانحہ سندر میں جن جن اداروں کی بھی کوتاہی ثابت ہو گی ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز پنجاب اسمبلی کیفے ٹیریا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کا رواں اجلاس تقریباً ایک ہفتے تک جاری رہے گا ، اجلاس دسمبر کے مہینے میں ہونا تھا مگر کچھ آرڈیننس کی مدت ختم ہونے جا رہی ہے اس لیے جلد بلایا گیا ہے تاکہ ان میں توسیع کی جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کو تشکیل دینے کے مرحلے پر کام شروع ہو چکا ہے اور اس حوالے سے باصلاحیت اور دیانتدار افراد کو بہت ہی شفاف طریقے سے چنا جائیگا اور ان کے انتخاب میں کسی کی کوئی گروپنگ کی جائے گی اور نہ ہی اس کی گنجائش ہے ۔

حالیہ بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے دو تہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی ہے ،

اپوزیشن ڈیڑھ سال سے کنٹینر پر چڑھی ہوئی تھی اور وہی رہ گئی ہے کہیں نظر نہیں آئی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم بلدیاتی انتخابات میں منتخب امیدواروں کو صلاحیت اور ذمہ داری کے ساتھ اختیارات دے رہے ہیں ۔ جبکہ مشرف دور میں لوکل گورنمنٹ کے نظام کی ناکامی کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ اس میں امیدواروں کے کردار کو مد نظر نہیں رکھا گیا جس کی وجہ سے (ق) لیگ ، مشرف اور بلدیاتی اداروں کا بیڑہ غرق ہو گیا ۔

ہم جب دیکھیں گے کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں کسی بھی قسم کے اضافے یا ترامیم کی ضرورت ہے تو ہم ضرور کریں گے ۔سانحہ سندر کے حوالے سے

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 17:03:03 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان