صوبے مضبوط ہونگے تو پاکستان مضبوط ہوگا ‘این ایف سی ایوارڈ ایوارڈ پر عمل نہ کرنا ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:29:37 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:29:37 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:17 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:07 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:07 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:07 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:22:48 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:22:48 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:22:47 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:21:33 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:21:33
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:14 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:15 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:18 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:58:19 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:54 وقت اشاعت: 18/01/2017 - 10:59:56 اسلام آباد کی مزید خبریں

صوبے مضبوط ہونگے تو پاکستان مضبوط ہوگا ‘این ایف سی ایوارڈ ایوارڈ پر عمل نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے‘ اراکین سینٹ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء)اراکین سینٹ نے کہا ہے کہ صوبے مضبوط ہونگے تو پاکستان مضبوط ہوگا ‘این ایف سی ایوارڈ ایوارڈ پر عمل نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے‘ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی مستقل نیشنل فنانس کمیشن بنایا جائے‘ مشترکہ مفادات کونسل اور این ایف سی کے مستقل سیکرٹریٹ بھی ہونے چاہئیں‘ جب تک وسائل غربت اور پسماندگی کی بنیاد پر تقسیم نہیں ہونگے ہم ترقی نہیں کر سکتے ‘ایوان بالا میں این ایف سی ایوارڈ کی ششماہی رپورٹ پر بحث کل سمیٹی جائے گی جبکہ وزیر پٹرولیم و قدرتی وسائل شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ این ایف سی ایوارڈ کی پہلی ششماہی رپورٹ پر بحث کے دوران ایوارڈ پر عملدرآمد کے حوالے سے کوئی نکتہ نہیں اٹھایا گیا۔

جمعرات کو این ایف سی ایوارڈ کی پہلی ششماہی رپورٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر حاصل بزنجو نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد نہ کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے ‘این ایف سی ایوارڈ سے متعلق کوئی اجلاس نہیں منعقد کیا گیا۔ این ایف سی ایوارڈ سے متعلق اس رویے سے قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچے گا۔ اس سے متعلق فوری اجلاس بلایا جانا چاہیے۔

این ایف سی ایوارڈ پر فوری عمل کیا جائے۔ مسلم لیگ (ق) کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ صوبے مضبوط ہوں گے تو پاکستان مضبوط ہوگا۔ این ایف سی ایوارڈ پر عملدرآمد سے وفاق مضبوط ہوگا۔ این ایف سی ایوارڈ پر فوری طور پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ ابھی تک این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔ این ایف سی ایوارڈ صرف آبادی نہیں بلکہ علاقوں کی پسماندگی کو مدنظر رکھ کر دیا جاتا ہے۔

پاکستان نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف 2015-30ء کے حصول پر عملدرآمد کا وعدہ کیا ہے۔ یہ اہداف صوبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ اور پائیدار ترقیاتی اہداف کا ایک دوسرے سے ربط ہے ‘نئے این ایف سی ایوارڈ میں وسائل کی تقسیم اس طرح کی جائے کہ جو صوبہ پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول میں جتنا کامیاب ہوگا اسی تناسب سے اسے زیادہ حصہ دیا جائے۔

پی پی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ اس وقت بالواسطہ ٹیکسوں کی تعداد بہت زیادہ ہے‘ غریب عوام بھی اشرافیہ کی طرح ہی ٹیکس دیتے ہیں‘ بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی ختم کی جائے ‘سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ ساتویں این ایف سی ایوارڈ میں آبادی‘ محصولات کی وصولی اور دوسری چیزوں کو مدنظر رکھا گیا‘ دوسرے صوبوں نے بلوچستان کی ترقی کے لئے اپنے حصہ سے وسائل دیئے۔



اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 15:28:07 :وقت اشاعت

:متعلقہ عنوان