عسکری اداروں کی جانب سے حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دینے کا بیان اختیارات ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:17 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:07 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:07 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:28:07 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:22:48 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:22:48 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:22:47 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:21:33 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:21:33 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:21:33 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 15:19:50
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

عسکری اداروں کی جانب سے حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دینے کا بیان اختیارات سے تجاوز ہے ،سینیٹرز

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء) ایوان بالا میں سینیٹرز نے عسکری اداروں کی جانب سے حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دینے کے بیانات کا نوٹس لیتے ہوئے اسے اختیارات سے تجاوز قرار دیا ہے‘ عوام کو آپریشن ضرب عضب سمیت کئی معاملات پر تحفظات ہیں مگر اس کا برملا اظہار نہیں کیا گیا ہے ملک کی داخلہ اور خارجہ پالیسیوں پر عسکری اداروں کا کنٹرول ہے‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صورتحال واضح کی جائے ایوان بالا میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اخبارات کی سرخیوں کے مطابق عسکری قیادت نے سول حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں آئی ایس پی آر نے بھی بیان جاری کیا ہے انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ حکومت نااہل ہے مگر اس کا اعلان فوجی جرنیلوں کے اجلاس میں کیا جانا درست ہے اور کیا یہ طریقہ درست ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے کہ اس سلسلے میں حکومت کے ساتھ رابطہ کرنے انہوں نے کہا کہ دو روز قبل نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں حکومت اور ملٹری کے مابین ایک میٹنگ ہوئی تھی اور اس میں تمام مسائل بیان کر دیئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار کے مطابق عسکری قیادت نے سینکڑوں عسکریت پسندوں کو مارا ہے مگر آج تک انہوں نے کسی کا نام نہیں لیا ہے اور نہ ہی کسی کی تصویر میڈیا کو جاری کی ہے انہوں نے کہا کہ ضرب عضب پر بھی عوام کو تشویش ہے اور کیا ہم نے عسکری اداروں سے اس سلسلے میں باز پرس کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ انتہائی نامناسب ہے۔ سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کی جانب سے سوات سمیت مختلف علاقوں میں تجارتی سرگرمیوں کو شروع کرنے کیلئے حکومت کو جو مشورے دیئے گئے اس پر کوئی عمل درامد نہیں کیا گیا اور اس بات کا اظہار عسکری قیادت کی جانب سے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں عسکری آپریسن ہو رہا ہے وہاں پر آپریسن کے بعد سول حکومت اپنی ذمہ داریاں لینے کیلئے تیار نہیں ہے۔

سینیٹر

اس خبر کی تفصیل پڑھنے کیلئے یہاں پر کلک کیجئے

12/11/2015 - 15:22:48 :وقت اشاعت