بشارالاسد کا نامعلوم مقام سے فوجیوں سے ٹیلیفونک رابطہ
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
جمعرات نومبر

مزید بین الاقوامی خبریں

وقت اشاعت: 12/11/2015 - 13:02:11 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:58:50 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:58:50 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:55:15 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:46:52 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:45:58 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:45:58 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:39:52 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:39:52 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:38:56 وقت اشاعت: 12/11/2015 - 12:38:56
پچھلی خبریں - مزید خبریں

بشارالاسد کا نامعلوم مقام سے فوجیوں سے ٹیلیفونک رابطہ

دمشق (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12 نومبر۔2015ء)شام کے متنازع صدر بشارالاسد سے متعلق ایک خبر سامنے آئی جس میں بتایا گیا کہ انہوں نے اپنے وفادار فوجی افسران سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا ہے اور حلب کا اہم ہوائی اڈہ باغیوں سے واپس لینے پر انہیں مبارک باد دینے کے ساتھ ساتھ ان کا شکریہ ادا کیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے صدر اسد کی اپنے وفادار فوجی افسران سے ٹیلیفونک گفتگو کی خبر کی تصدیق کی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ ٹیلیفون انہوں نے دمشق سے کیا تھا یا اللاذقیہ سے کیا تھا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر بشارالاسد نے اپنے وفادار دو فوجی افسران کو حلب کا اہم فوجی اڈہ خوریز باغیوں سے واپس لینے پر انہیں مبارک پیش کی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔ خیال رہے کہ شام میں روسی فوج کی مداخلت کے دو ماہ کے بعد شامی فوج کی یہ پہلی اہم ترین پیش رفت ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ روسی جنگی طیاروں کی باغیوں کے مراکز پر کارپٹ بمباری سیسیکڑوں عام شہری تو مارے گئے ہیں مگر اس کا شامی فوج کو زمینی پیش قدمی کے حوالے سے کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔

دفاعی شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شامی فوج اور اس کی حلیف روسی فوج نے حلب میں "خوریز" اڈے کو واگزار کرانے کے لیے جس وحشیانہ طریقے سے بمباری کی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ صرف ایک فوجی ہوائی اڈے کی واپسی کے لیے اتنی شدید بمباری کی گئی ہے اگر پورے حلب کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے بمباری کی گئی تو شہر کی اینٹ سے اینٹ بج جائے گی اور ہزاروں افراد کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔

خیال رہے کہ صدر بشارالاسد 28 اکتوبر کو فرانس سے آئے ایک وفد سے ملاقات کے دوران منظرعام پر آئے تھے۔ اس کے بعد وہ منظرعام سے غائب تھے۔ انہوں نے نہ تو کوئی بیان جاری کیا اور نہ ہی کوئی صدارتی فرمان جاری کیا گیا۔ ان کے ٹھکانوں کے بارے میں کوئی تصدیق نہیں ہوئی کہ آیا وہ کہاں ہیں۔ تاہم دمشق میں ان کے ممکنہ ٹھکانوں کو کئی بار راکٹوں سے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔گذشتہ روز یہ اطلاعات ملی تھیں کہ بشارالاسد خوریز فوجی اڈے کا معائنہ کرنے کے لیے حلب جانا چاہتے ہیں مگر بعد میں سیکیورٹی وجوہات کی بناء پر ان کا دورہ منسوخ کر دیا گیا تھا۔

12/11/2015 - 12:45:58 :وقت اشاعت