سپریم کورٹ کا بلوچستان میں غیرت کے نام پر بیٹی کو قتل کرنے والے ملزم کا مقدمہ عام ..
بند کریں
تازہ ترین ایڈ یشن کے لیے ابھی کلک کریں
بدھ نومبر

مزید اہم خبریں

وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:07:31 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:02:51 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:02:51 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:01:52 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:01:52 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:01:52 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:00:01 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:00:01 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 22:00:01 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:56:39 وقت اشاعت: 11/11/2015 - 21:56:39
پچھلی خبریں - مزید خبریں

اسلام آباد

اسلام آباد شہر میں شائع کردہ مزید خبریں

وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:01:42 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:17 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:21 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:23 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:27 وقت اشاعت: 22/02/2017 - 11:05:29 اسلام آباد کی مزید خبریں

سپریم کورٹ کا بلوچستان میں غیرت کے نام پر بیٹی کو قتل کرنے والے ملزم کا مقدمہ عام عدالت میں چلانے کا حکم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔11 نومبر۔2015ء)سپریم کورٹ نے بلوچستان میں غیرت کے نام پر بیٹی کو قتل کرنے والے ملزم کا مقدمہ عام عدالت میں چلانے کا حکم دیدیا۔ بدھ کو جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بلوچستان کے علاقے نصیر آباد کے رہائشی خدائے نور کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے اپیل منظور کرتے ہوئے قتل کا مقدمہ انسداد دہشت گردی عدالت کے بجائے عام عدالت میں چلانے کا حکم دیا عدالت نے قرار دیا کہ غیرت کے نام پر کیا جانے والا ہر قتل دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر ہائیکورٹ کی تشریح مان لی جائے تو ہر آدمی قانون ہاتھ میں لے لے گا۔ ہر قتل کا کوئی نتیجہ ہوتا ہے اور ہر کیس سے خوف نہیں پھیلتا۔ ملزم خدائے نور نے دو ہزار چودہ میں غیرت کے نام پر اپنی بیٹی کو قتل کیا تھا۔ سیشن کورٹ نے مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ہائیکورٹ نے بھی سیشن کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔

11/11/2015 - 22:01:52 :وقت اشاعت